سوال (6181)
تنھائی کی حالت میں عورت کا ستر ظاہر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
سوال میں لفظ “عورت” لغوی معنی میں استعمال کیا گیا ہے،یعنی: پردہ، قابل ستر حصہ۔
مومن خلوت اور جلوت ہر دو حالت میں اللہ تعالی سے ڈرنے والا، محارم سے بچنے والا اور حیادار ہوتا ہے۔ خلوت و تنہائی میں بھی برہنہ ہونا کسی صورت جائز نہیں۔ اس کی ممانعت باقاعدہ زبان نبوی سے منقول ہے۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
“قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ:”احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ” قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ:”إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا” قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ:”فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ”
“میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم اپنی شرمگاہیں کس حد تک کھول سکتے ہیں اور کہاں تک ہمیں چھپانا چاہیے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی شرمگاہ کو اپنی بیوی اور اپنی کنیز کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ، میں نے پھر عرض کیا: جب لوگ اکٹھے (مل جل کر) رہتے ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تب بھی حتی الامکان یہی کوشش کرو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے۔ میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے زیادہ اللہ تعالی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ [سنن الترمذي، كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، حدیث: 2794]
لہذا تنہائی میں بھی بے پردگی و برہنگی سے بچنا ضروری ہے۔
البتہ اگر کوئی عذر اور مجبوری ہو تو نہایت محتاط طریقے سے مجبوری کی حد تک گنجائش ہے۔ ان شاء اللہ جیسا کہ کسی زخم پر مرہم لگانا وغیرہ اور غسل کے وقت غسل خانے کی چاردیواری پردہ ہے۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم امان اللہ عاصم حفظہ اللہ
بارك الله فيكم وعافاكم
غسل کرتے ہوئے ستر کو ڈھانپ کر نہانا افضل ہے اور برہنہ حالت میں نہانا جائز ہے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام، سیدنا ایوب علیہ السلام کے واقعات اس کے جواز پر دلالت کرتے ہیں اور دوسری حدیث سے مراد بھی ناجائز ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ مراد اولی وافضل ہونا ہے۔
ہاں کسی غیر کے سامنے اپنے ستر کو ظاہر نہ کرے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




