سوال 6669
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
رمضان المبارک کی آمد سے قبل مختلف مدارس میں تکمیل صحیح بخاری کی تقریبات کا شرعی جواز درکار ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اصل بات یہ ہے کہ کانفرنسیں، دروس، تکمیلِ بخاری، تکمیلِ قرآن اور اس نوعیت کی دیگر تقریبات دراصل دعوت و تبلیغ کے مختلف اسالیب اور مظاہر ہیں۔ لوگ اپنی سہولت، حالات اور ضرورت کے مطابق انہیں مرتب کرتے ہیں۔ ان کے لیے شریعت کی طرف سے کوئی خاص تاریخ، دن یا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
البتہ عملاً چونکہ مدارس میں درسِ نظامی کا سال عموماً شعبان کے مہینے میں مکمل ہوتا ہے، اس لیے اسی زمانے میں ان تقریبات کا انعقاد کر لیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے نہ کوئی خاص عقیدہ ہوتا ہے، نہ کوئی مخصوص نظریہ، اور نہ ہی ان تقریبات کو مسنون سمجھا جاتا ہے۔
ان پروگراموں کا مقصد اساتذہ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی، علمی ذوق کی تازگی، اور اہلِ خیر و اہلِ ثروت کی توجہ مدارس کی طرف مبذول کرانا ہوتا ہے، تاکہ وہ اس دینی خدمت میں شریک ہوں جہاں مسافر اور نادار طلبہ قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور اصحابِ صفہ کی روایت عملی صورت میں زندہ ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾
اگر کوئی ان تقریبات کو بنیاد بنا کر غیر ضروری تقابل کرے، یا انہیں میلاد وغیرہ کے ساتھ الجھا کر باہمی نزاع پیدا کرے، تو یہ محض اس کی خود ساختہ تاویلات ہیں۔ درحقیقت دونوں میں واضح فرق ہے۔
ہمارا مؤقف بالکل صاف ہے کہ سیرت کے جلسے، تکمیلِ قرآن، یا تقریباتِ بخاری اگر اس نیت سے منعقد کی جائیں کہ یہ کوئی سنت یا عبادتِ مقررہ ہیں تو پھر اشکال پیدا ہو سکتا ہے؛ لیکن جب انہیں ایک دعوتی اور تعلیمی ضرورت سمجھ کر، لوگوں کی سہولت کے پیشِ نظر رکھا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
اس کی نظیر ہمیں سلف سے بھی ملتی ہے:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وعظ و نصیحت کے لیے جمعرات کا دن متعین کر رکھا تھا، اور نبی کریم ﷺ نے خواتین کی فرمائش پر ان کی تعلیم کے لیے ایک دن مقرر فرمایا۔
لہٰذا، دعوت و تبلیغ اور تعلیم کے مقصد سے ایسے پروگراموں کا انعقاد جائز ہے، بشرطیکہ انہیں دین کا لازمی یا مسنون حصہ سمجھ کر لازم نہ کر لیا جائے۔ والله أعلم
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں بدعت کا معنی ومفہوم سمجھنا چاہیے ہے یہ چیز سمجھ لی تو اس طرح کے سوال کبھی جنم نہیں لیں گے۔
دوسرے نمبر پر کچھ بنیادی چیزیں جاننا بھی ضروری ہے۔
ملاحظہ کریں:
(1) تبلیغ وتعلیم کا اثبات قرآن وحدیث اور تعامل سلف صالحین سے ثابت ہے۔
(2) تبلیغ وتعلیم کے بیان اور سیکھنے کے لئے کوئی قید و حد مقرر نہیں ہے اس لئے سال بھر میں جب چاہیں اس کا اہتمام کر سکتے ہیں
(3) جس چیز کی اصل ثابت ہو اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق جس طرح چاہیں سر انجام دے سکتے ہیں الا کہ شریعت نے اسے وقت اور دن کے ساتھ خاص نہ کیا ہو نہ ہی وہ کسی شرعی حکم کے خلاف ہو۔
(4) دعوت وتبلیغ ،شرعی تعلیم اور اشاعت حدیث ،دفاع حدیث عین ایمان ہے
اس کو عام وخاص تک پہنچانا ضروری اور اس کی اہمیت وفضیلت کو بیان کرنا مقصود و مطلوب ہے ۔
(5) صحیح البخاری کے موضوع پر مجالس قائم کرنا درحقیقت دین اسلام، احادیث مصطفی صلی الله علیہ وسلم کا دفاع ہے
صحیح البخاری قرآن کریم کے بعد سب سے صحیح اور عظیم ترین کتاب ہے جو دین اسلام، ایمان، سنت ،اور توحید رب العالمین جیسے پاکیزہ علوم واحکام سے بھری پڑی ہے اس نام پر مجالس قائم کرنا درحقیقت لوگوں کو اس کی عظمت وتعارف سے آگاہ کرنا اور ان کے دلوں میں عظمت حدیث کی شمع کو روشن کرنا ہے اور اس عظیم اور مبارک کتاب پر ہونے والے اعتراضات واشکالات باطلہ کا رد کرنا ہے جو عین ایمان ہے ۔
(6) اسی طرح امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری کا تذکرہ حسنہ اور دفاع درحقیقت حدیث رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم ،دین اسلام کا دفاع ہے کیونکہ جو ان کی شخصیت کو مشکوک بناتا ہے وہ درحقیقت احادیث رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم، دین اسلام کی تعلیمات واحکام کو مشکوک بناتا ہے اس لئے امام بخاری کی سیرت و شخصیت کو بیان کرنا بھی ضروری اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
اور اس سب سے وہی غافل ہیں جن کے دلوں میں نفاق ہے۔
(7) حضرت انسان سے توحید باری تعالی پر عہد، اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ختم نبوت پر عہد،انبیاء کرام صلوات الله علیھم اجمعین اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا وحی الہی کو لوگوں تک پہنچانا سب قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔
اب چند احادیث وآثار اور تصریحات علمیہ و شرعیہ پیش خدمت ہیں :
ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺑﻠﻐﻮا ﻋﻨﻲ ﻭﻟﻮ ﺁﻳﺔ۔۔۔۔۔۔ صحیح البخاری :(3461)
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے الفاظ عام ہیں اور تبلیغ وتعلیم کے لیے حالات حاضرہ کے مطابق کوئی سا بھی جائز طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔
امام ابن حبان اس حدیث مبارک کے تحت فرماتے ہیں:
ﺑﻠﻐﻮا ﻋﻨﻲ ﻭﻟﻮ ﺁﻳﺔ ﺃﻣﺮ ﻗﺼﺪ ﺑﻪ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ، ﻭﻳﺪﺧﻞ ﻓﻲ ﺟﻤﻠﺔ ﻫﺬا اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﺑﻮﺻﻔﻬﻢ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﻓﻲ ﺗﺒﻠﻴﻎ ﻣﻦ ﺑﻌﺪﻫﻢ ﻋﻨﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻭﻫﻮ ﻓﺮﺽ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﻔﺎﻳﺔ ﺇﺫا ﻗﺎﻡ اﻟﺒﻌﺾ ﺑﺘﺒﻠﻴﻐﻪ ﺳﻘﻂ ﻋﻦ اﻵﺧﺮﻳﻦ ﻓﺮﺿﻪ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﻠﺰﻡ ﻓﺮﺿﻴﺘﻪ ﻣﻦ ﻛﺎﻥ ﻋﻨﺪﻩ ﻣﻨﻪ ﻣﺎ ﻳﻌﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﻟﻴﺲ ﻋﻨﺪ ﻏﻴﺮﻩ، ﻭﺃﻧﻪ ﻣﺘﻰ اﻣﺘﻨﻊ ﻋﻦ ﺑﺜﻪ، ﺧﺎﻥ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ، ﻓﺤﻴﻨﺌﺬ ﻳﻠﺰﻣﻪ ﻓﺮﺿﻪ۔ صحيح ابن حبان: (6256)
امام دارمی اس حدیث کو اس باب کے تحت لائے ہیں
ﺑﺎﺏ اﻟﺒﻼﻍ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻭﺗﻌﻠﻴﻢ اﻟﺴﻨﻦ
سنن دارمی: (559)
امام بیھقی نے اس حدیث کو اس باب کے تحت نقل کیا ہے۔
ﺑﺎﺏ ﻣﻦ ﻏﺪا ﻭﺭاﺡ ﻓﻲ ﺗﻌﻠﻢ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭاﻟﺴﻨﺔ
الآداب للبيهقي: (864)
فائدہ: امام بیھقی نے اس مکمل حدیث سے ایک اور مسئلہ یوں عنوان قائم کر کے أخذ کیا ہے۔
اﻧﺘﻘﺎﺩ اﻟﺮﻭاﻳﺔ ﻭﻣﺎ ﻳﺴﺘﺪﻝ ﺑﻪ ﻋﻠﻰ ﺧﻄﺄ اﻟﺤﺪﻳﺚ
معرفة السنن والآثار: (143)
(صحابی رسول کی حدیث نبوی کو سننے اور آگے پہنچانے کی وصیت وترغیب)
عن ﺳﻠﻴﻢ ﺑﻦ ﻋﺎﻣﺮ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺃﺑﻮ ﺃﻣﺎﻣﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﺇﺫا ﻗﻌﺪﻧﺎ ﺇﻟﻴﻪ، ﻳﺠﻴﺌﻨﺎ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺑﺄﻣﺮ ﻋﻈﻴﻢ، ﻭﻳﻘﻮﻝ ﻟﻨﺎ: اﺳﻤﻌﻮا ﻭاﻋﻘﻠﻮا، ﻭﺑﻠﻐﻮا ﻋﻨﺎ ﻣﺎ ﺗﺴﻤﻌﻮﻥ ﻗﺎﻝ ﺳﻠﻴﻢ: ﺑﻤﻨﺰﻟﺔ اﻟﺬﻱ ﻳﺸﻬﺪ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻋﻠﻢ
سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں جب ہم سیدنا ابوامامہ رضی الله عنہ کے پاس بیٹھتے تھے تو وہ ہمیں بہت بڑی چیز کے بارے میں حدیث سناتے اور فرماتے تھے: سنو اور سمجھو! اور جو ہم سے سنو دوسروں تک پہنچا دو۔ سلیم نے کہا: جیسے کہ انہوں نے جو علم حاصل کیا اس پر گواہ بنا رہے ہوں۔
سنن دارمی: (561) واللفظ له، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم: (1238)، المعجم الكبير للطبرانى: (7673)، مسند الشامیین: (953) صحيح
اسی طرح تبلیغ و وعظ اور علمی مجالس قائم کرنے کے لئے کسی وقت اور دن کو طے کرنا بھی جائز ہے اور مقصد لوگوں کو سہولت و آسانی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺨﺪﺭﻱ ﻗﺎﻟﺖ اﻟﻨﺴﺎء ﻟﻠﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻏﻠﺒﻨﺎ ﻋﻠﻴﻚ اﻟﺮﺟﺎﻝ، ﻓﺎﺟﻌﻞ ﻟﻨﺎ ﻳﻮﻣﺎ ﻣﻦ ﻧﻔﺴﻚ، ﻓﻮﻋﺪﻫﻦ ﻳﻮﻣﺎ ﻟﻘﻴﻬﻦ ﻓﻴﻪ، ﻓﻮﻋﻈﻬﻦ ﻭﺃﻣﺮﻫﻦ، ﻓﻜﺎﻥ ﻓﻴﻤﺎ ﻗﺎﻝ ﻟﻬﻦ
ابوسعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہا کہ ( دین اسلام کی تعلیمات واحکام سیکھنے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے ( وعظ کے ) لیے ( بھی ) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انھیں وعظ فرمایا اور ( مناسب ) احکام بتائے جو کچھ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
صحیح البخاری: (101)
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻭاﺋﻞ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻳﺬﻛﺮ اﻟﻨﺎﺱ ﻓﻲ ﻛﻞ ﺧﻤﻴﺲ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻪ ﺭﺟﻞ: ﻳﺎ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﻟﻮﺩﺩﺕ ﺃﻧﻚ ﺫﻛﺮﺗﻨﺎ ﻛﻞ ﻳﻮﻡ؟ ﻗﺎﻝ: ﺃﻣﺎ ﺇﻧﻪ ﻳﻤﻨﻌﻨﻲ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﺃﻧﻲ ﺃﻛﺮﻩ ﺃﻥ ﺃﻣﻠﻜﻢ، ﻭﺇﻧﻲ ﺃﺗﺨﻮﻟﻜﻢ ﺑﺎﻟﻤﻮﻋﻈﺔ، ﻛﻤﺎ ﻛﺎﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﺘﺨﻮﻟﻨﺎ ﺑﻬﺎ، ﻣﺨﺎﻓﺔ اﻟﺴﺂﻣﺔ ﻋﻠﻴﻨﺎ
ثقہ تابعی أبو وائل( شقیق بن سلمہ )بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالله (بن مسعود ) رضی الله عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ ونصیحت کیا کرتے تھے۔ تو ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ ونصیحت کریں۔ آپ نے فرمایا، سنو مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ پڑ جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے
صحیح البخاری: (70)ﺑﺎﺏ ﻣﻦ ﺟﻌﻞ ﻷﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺃﻳﺎﻣﺎ ﻣﻌﻠﻮﻣﺔ یہ حدیث کئ کتب احادیث میں موجود ہے۔
اس حدیث و أثر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم وفضل سے دین وعلم سیکھنے کے لئے وقت لینا اور وقت و دن طے کرنا جائز ہے اور جو وقت اور دن وہ عالم دین طے کر دیں اس میں مجلس و درس کا انعقاد بھی جائز ہے اور یہ کہ علماء کرام کو اپنے وعدہ کو نبھانا چاہیے الا کہ کوئی شرعی عذر پیش آ جائے تو وہ معذور ہیں۔
اسی حدیث مبارک سے تقریب بخاری شریف، درس حدیث، درس قرآن کریم، علمی مجالس قائم کرنے اور دنوں کی تعیین کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے عہد مبارک میں قائم ہو چکی تھی اور صحابہ کرام بھی اس پر عمل پیرا تھے اور پھر یہ سب کچھ طلباء، اور شائقین کتاب وسنت کے لئے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
شیخ الحدیث مفتی عبد الستار الحماد سلمه الله تعالى اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔
تعلیمی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اوقات تعلیم کی تقسیم اور تعیین ضروری ہے، اسی طرح وعظ و نصیحت کے لیے اگر کوئی دن مقرر کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور نہ اسے بدعت ہی کہا جا سکتا ہے، بلکہ ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ معلمین اور متعلمین کا تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے مدعا ثابت کرنے کے لیے ایک موقوف حدیث کا سہارا لیا ہے لیکن چونکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے استنباط کیا ہے اس لیے دن کی تعیین کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 70]
دعوت وتبلیغ ،مجالس علم کے لئے دن کے مقرر کرنے کے اثبات پر ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں:
ﻋﻜﺮﻣﺔ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺙ اﻟﻨﺎﺱ ﻛﻞ ﺟﻤﻌﺔ ﻣﺮﺓ، ﻓﺈﻥ ﺃﺑﻴﺖ ﻓﻤﺮﺗﻴﻦ، ﻓﺈﻥ ﺃﻛﺜﺮﺕ ﻓﺜﻼﺙ ﻣﺮاﺭ، ﻭﻻ ﺗﻤﻞ اﻟﻨﺎﺱ ﻫﺬا اﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻭﻻ ﺃﻟﻔﻴﻨﻚ ﺗﺄﺗﻲ اﻟﻘﻮﻡ ﻭﻫﻢ ﻓﻲ ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺜﻬﻢ، ﻓﺘﻘﺺ ﻋﻠﻴﻬﻢ، ﻓﺘﻘﻄﻊ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﺣﺪﻳﺜﻬﻢ ﻓﺘﻤﻠﻬﻢ، ﻭﻟﻜﻦ ﺃﻧﺼﺖ، ﻓﺈﺫا ﺃﻣﺮﻭﻙ ﻓﺣﺪﺙﻫﻢ ﻭﻫﻢ ﻳﺸﺘﻬﻮﻧﻪ، ﻓﺎﻧﻈﺮ اﻟﺴﺠﻊ ﻣﻦ اﻟﺪﻋﺎء ﻓﺎﺟﺘﻨﺒﻪ، ﻓﺈﻧﻲ ﻋﻬﺪﺕ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﺃﺻﺤﺎﺑﻪ ﻻ ﻳﻔﻌﻠﻮﻥ ﺇﻻ ﺫﻟﻚ ﻳﻌﻨﻲ ﻻ ﻳﻔﻌﻠﻮﻥ ﺇﻻ ﺫﻟﻚ اﻻﺟﺘﻨﺎﺏ، صحیح البخاری: (6337)
ایسے ہی رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
ﺃﻻ ﻟﻴﺒﻠﻎ اﻟﺸﺎﻫﺪ ﻣﻨﻜﻢ اﻟﻐﺎﺋﺐ
اس حدیث پر امام بخاری نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔
ﺑﺎﺏ: ﻟﻴﺒﻠﻎ اﻟﻌﻠﻢ اﻟﺸﺎﻫﺪ اﻟﻐﺎﺋﺐ
صحیح البخاری: (105)
ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں:
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
ﻟﻴﺒﻠﻎ اﻟﺸﺎﻫﺪ اﻟﻐﺎﺋﺐ، ﻓﺈﻥ اﻟﺸﺎﻫﺪ ﻋﺴﻰ ﺃﻥ ﻳﺒﻠﻎ ﻣﻦ ﻫﻮ ﺃﻭﻋﻰ ﻟﻪ ﻣﻨﻪ، صحیح البخاری: (67)
یہ مجالس و تقاریب بھی ابلاغ دین،ابلاغ حدیث وعلم کے مقصد کے لئے اور لوگوں میں
دین وعلم کی محبت پیدا کرنے کے لئے رکھی جاتی ہیں اور اس پر فتن دور میں تو اس کی اشد ضرورت ہے۔
((کیا ہم جانتے نہیں کہ سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام نے بیت المقدس میں لوگوں کو جمع کیا اور انہیں پیغام الہی پہنچایا))
سیدنا حارث الأشعری رضی الله عنہ سے مروی طویل حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
ﻓﺠﻤﻊ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻨﻲ ﺇﺳﺮاﺋﻴﻞ ﻓﻲ ﺑﻴﺖ اﻟﻤﻘﺪﺱ، ﺣﺘﻰ اﻣﺘﻸ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻓﻘﻌﺪ ﻋﻠﻰ اﻟﺸﺮﻑ، ﻓﺤﻤﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﺃﺛﻨﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﺃﻣﺮﻧﻲ ﺑﺨﻤﺲ ﻛﻠﻤﺎﺕ ﺃﻥ ﺃﻋﻤﻞ ﺑﻬﻦ، ﻭﺁﻣﺮﻛﻢ ﺃﻥ ﺗﻌﻤﻠﻮا ﺑﻬﻦ۔۔۔۔۔۔۔
مسند أحمد بن حنبل: (17170 واللفظ له،17800)، سنن ترمذی 2863) صحیح
یحیی بن أبی کثیر کی متابعت صحیح معاویہ بن سلام نے کر رکھی ہے الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم :(2510) ،السنة لابن أبي عاصم :(1036) ،تعظيم قدر الصلاة للمروزي: (127)،صحیح ابن خزیمہ: (483) صحيح
اس حدیث کے الفاظ ﻓﺠﻤﻊ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻨﻲ ﺇﺳﺮاﺋﻴﻞ ﻓﻲ ﺑﻴﺖ اﻟﻤﻘﺪﺱ، ﺣﺘﻰ اﻣﺘﻸ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻓﻘﻌﺪ ﻋﻠﻰ اﻟﺸﺮﻑ، ﻓﺤﻤﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﺃﺛﻨﻰ ﻋﻠﻴﻪ پر غور کریں کہ رب العالمین کی ہدایت واحکام کو پہنچانے کے لئے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا اور جب مسجد لوگوں سے بھر گئ تو مسند پر تشریف فرما ہوئے اور الله تعالى کی حمد وثناء کے بعد سیدنا یحیی علیہ السلام نے انہیں واعظ و ارشاد فرمایا ۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگوں تک دین وشریعت کے فرائض واحکام اور فضائل و نصائح کے متعلق باتیں پہنچانے کے لئے کوئی سا بھی مناسب اور آسان ذریعہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو کسی شرعی حکم سے متصادم نہ ہو۔
ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں:
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻭاﻗﺪ اﻟﻠﻴﺜﻲ، ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﻴﻨﻤﺎ ﻫﻮ ﺟﺎﻟﺲ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻭاﻟﻨﺎﺱ ﻣﻌﻪ ﺇﺫ ﺃﻗﺒﻞ ﺛﻼﺛﺔ ﻧﻔﺮ، ﻓﺄﻗﺒﻞ اﺛﻨﺎﻥ ﺇﻟﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﺫﻫﺐ ﻭاﺣﺪ، ﻗﺎﻝ: ﻓﻮﻗﻔﺎ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﺄﻣﺎ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ: ﻓﺮﺃﻯ ﻓﺮﺟﺔ ﻓﻲ اﻟﺤﻠﻘﺔ ﻓﺠﻠﺲ ﻓﻲﻫﺎ، ﻭﺃﻣﺎ اﻵﺧﺮ: ﻓﺠﻠﺲ ﺧﻠﻔﻬﻢ، ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺜﺎﻟﺚ: ﻓﺄﺩﺑﺮ ﺫاﻫﺒﺎ، ﻓﻠﻤﺎ ﻓﺮﻍ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﺃﻻ ﺃﺧﺒﺮﻛﻢ ﻋﻦ اﻟﻨﻔﺮ اﻟﺜﻼﺛﺔ؟ ﺃﻣﺎ ﺃﺣﺪﻫﻢ ﻓﺄﻭﻯ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﻪ ﻓﺂﻭاﻩ اﻟﻠﻪ، ﻭﺃﻣﺎ اﻵﺧﺮ ﻓﺎﺳﺘﺤﻴﺎ ﻓﺎﺳﺘﺤﻴﺎ اﻟﻠﻪ ﻣﻨﻪ، ﻭﺃﻣﺎ اﻵﺧﺮ ﻓﺄﻋﺮﺽ ﻓﺄﻋﺮﺽ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، صحیح البخاری: (66)
اس حدیث پر امام بخاری نے دوسری جگہ یوں عنوان قائم کیا ہے۔
ﺑﺎﺏ اﻟﺤﻠﻖ ﻭاﻟﺠﻠﻮﺱ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ
اس حدیث کے ابتدائی الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے دینی وعلمی مجالس قائم کرنا ہمیں ہمارا دین اور پاک پیغمبر محمد کریم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت سکھاتی ہے۔
اس حدیث پر امام ابن حبان نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔
ﺫﻛﺮ ﺃﻣﺎﻥ اﻟﻠﻪ ﺟﻞ ﻭﻋﻼ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ ﻣﻦ ﺃﻭﻯ ﺇﻟﻰ ﻣﺠﻠﺲ ﻋﻠﻢ ﻭﻧﻴﺘﻪ فيه ﺻﺤﻴﺤﺔ، صحيح ابن حبان: (86)
امام ابن عبدالبر کہتے ہیں:
ﻭﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﻌﺎﻥ ﻣﻦ ﺁﺩاﺏ مجالسة اﻟﻌﺎﻟﻢ ﻭاﻟﺘﺤﻠﻖ ﺇﻟﻴﻪ ﻭاﻟﺘﺨﻄﻲ ﻓﻲ ﺣﻠﻘﺘﻪ ﺇﻟﻰ ﻓﺮﺟﺔ ﺇﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﻓﻴﻬﺎ ﺃﻭ اﻟﺠﻠﻮﺱ ﺣﻴﺚ اﻧﺘﻬﻰ ﺑﺎﻟﻄﻠﺐ اﻟﻤﺠﻠﺲ ﻭﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ، الإستذكار لابن عبد البر :8/ 468
فيه اﺳﺘﺤﺒﺎﺏ ﺟﻠﻮﺱ اﻟﻌﺎﻟﻢ ﻷﺻﺤﺎﺑﻪ ﻭﻏﻴﺮﻫﻢ ﻓﻲ ﻣﻮﺿﻊ ﺑﺎﺭﺯ ﻇﺎﻫﺮ ﻟﻠﻨﺎﺱ ﻭاﻟﻤﺴﺠﺪ ﺃﻓﻀﻞ فيذاﻛﺮﻫﻢ اﻟﻌﻠﻢ ﻭاﻟﺨﻴﺮ ﻭ فيه ﺟﻮاﺯ ﺣﻠﻖ اﻟﻌﻠﻢ ﻭاﻟﺬﻛﺮ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻭاﺳﺘﺤﺒﺎﺏ ﺩﺧﻮﻟﻬﺎ ﻭمجالسة ﺃﻫﻠﻬﺎ ﻭﻛﺮاﻫﺔ اﻻﻧﺼﺮاﻑ ﻋﻨﻬﺎ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻋﺬﺭ ﻭاﺳﺘﺤﺒﺎﺏ اﻟﻘﺮﺏ ﻣﻦ ﻛﺒﻴﺮ اﻟﺤﻠﻘﺔ ﻟﻴﺴﻤﻊ ﻛﻼﻣﻪ ﺳﻤﺎﻋﺎ ﺑﻴﻨﺎ ﻭﻳﺘﺄﺩﺏ ﺑﺄﺩﺑﻪ ﻭﺃﻥ ﻗﺎﺻﺪ اﻟﺤﻠﻘﺔ ﺇﻥ ﺭﺃﻯ ﻓﺮﺟﺔ ﺩﺧﻞ ﻓﻴﻬﺎ ﻭاﻻﺟﻠﺲ ﻭﺭاءﻫﻢ۔
شرح النووي على مسلم: 14/ 158
جس بھی چیز کے متعلق بتانے کی معاشرے کے افراد کو ضرورت ہو اس کے لئے مسجد وغیرہ میں علماء کرام میں سے کسی کا آنا اور لوگوں کو تعلیم وترغیب دینا جائز اور بعض حالات میں ضروری ہے۔
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ، ﻗﺎﻟﺖ: ﻟﻤﺎ ﺃﻧﺰﻟﺖ اﻵﻳﺎﺕ ﻣﻦ ﺳﻮﺭﺓ اﻟﺒﻘﺮﺓ ﻓﻲ اﻟﺮﺑﺎ، ﺧﺮﺝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﻘﺮﺃﻫﻦ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ، ﺛﻢ ﺣﺮﻡ ﺗﺠﺎﺭﺓ اﻟﺨﻤﺮ، صحیح البخاری: (459)
(قرآن وحدیث کی روشنی میں ہدایت کے طریقوں کی لوگوں کو تعلیم دینا سنت سے ثابت ہے)
مثلا: ﺇﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻤﻨﺎ ﺳﻨﻦ اﻟﻬﺪﻯ، ﻭﺇﻥ ﻣﻦ ﺳﻨﻦ اﻟﻬﺪﻯ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ اﻟﺬﻱ ﻳﺆﺫﻥ فيه، صحیح مسلم: (654)
ان ہدایت کے طریقوں میں سے قرآن کریم کے ساتھ حدیث وسنت کی تعلیم وترغیب بھی ہے اور یہ تقاریب و کانفرس اسی مقصد کے لئے منعقد کی جاتی ہیں ۔
(نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی شان وعظمت کے دفاع میں اشعار پڑھنا ، دفاع اسلام اور دفاع حدیث کے لئے باطل وگمراہ فرق کو جواب دینا اور اس کے لئے مجلس کا اہتمام کرنا ثابت ہے)۔
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﺃﻥ ﻋﻤﺮ، ﻣﺮ ﺑﺤﺴﺎﻥ ﻭﻫﻮ ﻳﻨﺸﺪ اﻟﺸﻌﺮ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ، ﻓﻠﺤﻆ ﺇﻟﻴﻪ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻗﺪ ﻛﻨﺖ ﺃﻧﺸﺪ، ﻭفيه ﻣﻦ ﻫﻮ ﺧﻴﺮ ﻣﻨﻚ، ﺛﻢ اﻟﺘﻔﺖ ﺇﻟﻰ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻓﻘﺎﻝ: ﺃﻧﺸﺪﻙ اﻟﻠﻪ ﺃﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ: ﺃﺟﺐ ﻋﻨﻲ، اﻟﻠﻬﻢ ﺃﻳﺪﻩ ﺑﺮﻭﺡ اﻟﻘﺪﺱ؟ ﻗﺎﻝ: اﻟﻠﻬﻢ ﻧﻌﻢ.
صحیح البخاری: (453) ،صحیح مسلم :(2485) واللفظ له اس حدیث پر امام بخاری نے باب باندھا ہے
ﺑﺎﺏ اﻟﺸﻌﺮ ﻓﻲ اﻟﻤﺴﺠﺪ
یہ حدیث مبارک دلیل ہے کہ دفاع اسلام، دفاع سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم، اور دفاع حدیث کے لئے اہل بدعت وکفر کو جواب دینا واجب ہے۔
اس مسئلہ پر مزید دلائل بھی موجود ہیں۔
(دیانت داری کے ساتھ قرآن وحدیث کے علم کو حفظ وضبط کرنےاور اس کے ساتھ تبلیغ کرنے اور آگے پہنچانے کی فضیلت)
ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ: ﻧﻀﺮ اﻟﻠﻪ اﻣﺮﺃ ﺳﻤﻊ ﻣﻨﺎ ﺣﺪﻳﺜﺎ، ﻓﺤﻔﻈﻪ ﺣﺘﻰ ﻳﺒﻠﻐﻪ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: الله تعالی اس شخص کو تروتازہ رکھیں جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا
سنن أبو داود: (3660)، سنن ترمذی: (2656)، مسند أحمد بن حنبل (21590)، سنن دارمی: (229)، مسند أبی داود الطیالسی: (618) سنده صحيح
اس حدیث کو امام ابو داود اس عنوان کے تحت لائے ہیں۔
ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ ﻧﺸﺮ اﻟﻌﻠﻢ
سنن أبو داود :(3660)
امام ترمذی نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔
ﺑﺎﺏ ﻣﺎ ﺟﺎء ﻓﻲ اﻟﺤﺚ ﻋﻠﻰ ﺗﺒﻠﻴﻎ اﻟﺴﻤﺎﻉ
سنن ترمذی :(2656)
امام نسائی نے اس حدیث پر یوں عنوان قائم کیا ہے۔
اﻟﺤﺚ ﻋﻠﻰ ﺇﺑﻼﻍ اﻟﻌﻠﻢ
السنن الكبرى للنسائى: (5816)
اس حدیث پر امام ابن حبان نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔
ﺫﻛﺮ ﺭﺣﻤﺔ اﻟﻠﻪ ﺟﻞ ﻭﻋﻼ ﻣﻦ ﺑﻠﻎ ﺃﻣﺔ اﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﺻﺤﻴﺤﺎ ﻋﻨﻪ، صحیح ابن حبان: (67)
حافظ ابن عبدالبر نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔
ﺑﺎﺏ ﺩﻋﺎء ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻤﺴﺘﻤﻊ اﻟﻌﻠﻢ ﻭﺣﺎﻓﻈﻪ ﻭﻣﺒﻠﻐﻪ، جامع بيان العلم وفضله: (184)
اور کہا:
ﺃﻻ ﺗﺮﻯ ﺃﻧﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺩﻋﺎ ﻟﻤﻦ ﺣﻔﻆ ﻣﻘﺎﻟﺘﻪ ﻫﺬﻩ ﻓﻮﻋﺎﻫﺎ ﺛﻢ ﺃﺩاﻫﺎ ﺗﺄﻛﻴﺪا ﻣﻨﻪ ﻓﻲ ﺣﻔﻈﻬﺎ ﻭﺗﺒﻠﻴﻐﻬﺎ، التمهيد لابن عبد البر: 21/ 276
امام فضیل بن عیاض نے کہا:
ﻣﺎ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺇﻻ ﻭﻓﻲ ﻭﺟﻬﻪ ﻧﻀﺮﺓ؛ ﻟﻘﻮﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻧﻀﺮ اﻟﻠﻪ اﻣﺮءا ﺳﻤﻊ ﻣﻨﺎ ﺣﺪﻳﺜﺎ، المجالسة للدينوري: (114)
سند کے راوی ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ شیخ الدینوری کی توثیق نہیں ملی ہے مگر اس کا معنی صحیح اور ثابت ہے۔
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺯﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ اﻟﻌﺒﺪﻭﻱ اﻟﺤﺎﻓﻆ ﺑﻨﻴﺴﺎﺑﻮﺭ ( هو ثقة حافظ) ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ( هو ابن أحمد ) ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ( أبو الفضل الطوسي ﻫﻮ ﺃﺣﺪ ﺃﺭﻛﺎﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺑﺨﺮاﺳﺎﻥ)، ﻳﻘﻮﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ اﻟﻤﻮﻟﺪ( هو ابن أحمد بن محمد الرقي من مشايخ الرقة)، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺮﻭاﻥ( المالكي) ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺳﺎﻟﻢ( هو أبو جعفر الصائغ( صدوق )، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ اﻟﺤﻤﻴﺪﻱ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ ﻳﻘﻮﻝ: ﻣﺎ ﻣﻦ ﺃﺣﺪ ﻳﻄﻠﺐ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺇﻻ ﻭﻓﻲ ﻭﺟﻬﻪ ﻧﻀﺮﺓ؛ ﻟﻘﻮﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻧﻀﺮ اﻟﻠﻪ اﻣﺮﺃ ﺳﻤﻊ ﻣﻨﺎ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻓﺒﻠﻐﻪ
شرف أصحاب الحديث للخطيب البغدادى: ص:19، المدخل إلى كتاب الإكليل: ص: 2 سنده حسن لذاته
یہ حدیث مبارک ابلاغ دین، اشاعت حدیث، روایت حدیث، حفظ حدیث، اصول حدیث، شروط صحت حدیث پر دلالت کرتی ہے۔ اور صحیح البخاری میں یہ تمام چیزیں موجود ہیں اس لئے عظمت صحیح البخاری کے لئے تقاریب کا انعقاد ایک مبارک عمل ہے۔
اور اس کے مقاصد وفوائد کسی سے مخفی نہیں ہیں سوائے جہلا کے۔
(اسی طرح پیشگی کسی مبارک عشائیہ و تقریب کا اعلان کرنا بھی جائز ہے تا کہ لوگوں میں اس کے حصول کے لئے رغبت وشوق اور حرص پیدا ہو)
یہ استدلال ہمارا حدیث شریف کے ان الفاظ سے ہے۔
ﻗﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ عليه ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻮﻡ ﺧﻴﺒﺮ: ﻷﻋﻄﻴﻦ اﻟﺮاﻳﺔ ﻏﺪا ﺭﺟﻼ ﻳﻔﺘﺢ ﻋﻠﻰ ﻳﺪﻳﻪ، ﻳﺤﺐ اﻟﻠﻪ ﻭﺭﺳﻮﻟﻪ، ﻭﻳﺤﺒﻪ اﻟﻠﻪ ﻭﺭﺳﻮﻟﻪ، ﻓﺒﺎﺕ اﻟﻨﺎﺱ ﻟﻴﻠﺘﻬﻢ ﺃﻳﻬﻢ ﻳﻌﻄﻰ، ﻓﻐﺪﻭا ﻛﻠﻬﻢ ﻳﺮﺟﻮﻩ
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا:
کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر الله تعالی فتح دیں گے اور وہ الله اور ان ( الله) کے رسول سے محبت کرتا ہو گا اور الله اور الله کے رسول اس کو چاہتے ہوں گے۔ پھر رات بھر لوگ ذکر کرتے رہے کہ دیکھیں یہ شان و اعزاز آپ صلی الله علیہ وسلم کس کو دیتے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو سب کے سب (رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس) یہی امید لئے آئے کہ یہ جھنڈا مجھے ملے گا
صحیح البخاری: (3009) واللفظ له، صحیح مسلم: (2406)
صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین سے مختلف عناوین ومسائل پر مجالس قائم کرنا اور ان پر گفتگو کرنا ثابت ہے اور اس پر نکیر ثابت نہیں ہے
مثلا: ﻋﻦ ﺣﺬﻳﻔﺔ ﺑﻦ ﺃﺳﻴﺪ اﻟﻐﻔﺎﺭﻱ، ﻗﺎﻝ: اﻃﻠﻊ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻭﻧﺤﻦ ﻧﺘﺬاﻛﺮ، ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﺗﺬاﻛﺮﻭﻥ؟ ﻗﺎﻟﻮا: ﻧﺬﻛﺮ اﻟﺴﺎﻋﺔ، ﻗﺎﻝ: ﺇﻧﻬﺎ ﻟﻦ ﺗﻘﻮﻡ ﺣﺘﻰ ﺗﺮﻭﻥ ﻗﺒﻠﻬﺎ ﻋﺸﺮ ﺁﻳﺎﺕ- ﻓﺬﻛﺮ- اﻟﺪﺧﺎﻥ، ﻭاﻟﺪﺟﺎﻝ، ﻭاﻟﺪاﺑﺔ۔۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم: (2901) ﺑﺎﺏ ﻓﻲ اﻵﻳﺎﺕ اﻟﺘﻲ ﺗﻜﻮﻥ ﻗﺒﻞ اﻟﺴﺎﻋﺔ
یہ کوئی دنیاوی مجلس نہیں تھی بلکہ خالص
قیامت کے متعلق مذاکرہ پر مشتمل مجلس تھی جس پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کی بڑی نشانیاں بیان فرما دیں۔
تو عقائد، ایمانیات،احکام وغیرہ پر مجلس قائم کرنا یا اتفاقا مجلس کا ماحول بن جانا جبکہ مقصد تحصیل علم، تذکرہ علم اور علوم وفنون میں مہارت حاصل کرنا اور راہنمائی دینا ہو تو یہ لائق تحسین اور درست ہے۔
(مجالس علمی،تقاریب علمیہ،اور قرآن وحدیث پر مشتمل کانفرنس میں قرآن کی تلاوت کا اہتمام مستحب ہے )
حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم( هو ابن صبيح الهمداني الكوفي ثقة فاضل )عن مسروق قال: كان عبد اللَّه يقرئنا القرآن في المجلس ثم يجلس بعده يحدث الناس، مصنف ابن أبي شيبة: (32308) صحيح
سیدنا ابن مسعود رضی الله عنہ کا عمل دیکھیں پہلے قرآن کریم کی تلاوت پھر صحابہ کرام ،تابعین عظام کی مجلس کو درس دیا۔
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻧﻀﺮﺓ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا اﺟﺘﻤﻌﻮا ﺗﺬاﻛﺮﻭا اﻟﻌﻠﻢ ﻭﻗﺮءﻭا ﺳﻮﺭﺓ۔
الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع: (1207)2/ 68 صحیح
راوی عفان نے ایک بار اسے مختصرا ابو سعید خدری کے واسطہ کے بغیر بیان کیا اور راجح واسطہ کے ساتھ ہی ہے جیسا کہ دیگر ائمہ نے شعبہ سے روایت کیا ہے
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ اﻟﻄﻴﺎﻟﺴﻲ ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺷﻌﺒﺔ ﻗﺎﻝ اﺑﺘﺪاء: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ اﻟﺤﻜﻢ ﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻧﻀﺮﺓ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺨﺪﺭﻱ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ صلى الله عليه وسلم ﺇﺫا ﻗﻌﺪﻭا ﻳﺘﺤﺪﺛﻮﻥ ﻛﺎﻥ ﺣﺪﻳﺜﻬﻢ اﻟﻔﻘﻪ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﺄﻣﺮﻭا ﺭﺟﻼ ﻓﻴﻘﺮﺃ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﺳﻮﺭﺓ ﺃﻭ ﻳﻘﺮﺃ ﺭﺟﻞ ﺳﻮﺭﺓ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ
الطبقات الكبرى لابن سعد: 2/ 285 سنده صحيح
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺤﺎﻓﻆ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻌﺒﺎﺱ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ، ﺛﻨﺎ ﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ اﻷﺻﺒﻬﺎﻧﻲ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻣﻬﺪﻱ، ﻋﻦ ﺷﻌﺒﺔ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ اﻟﺤﻜﻢ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻧﻀﺮﺓ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﺫا ﺟﻠﺴﻮا ﻛﺎﻥ ﺣﺪﻳﺜﻬﻢ ﻳﻌﻨﻲ اﻟﻔﻘﻪ، ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ ﺭﺟﻞ ﺳﻮﺭﺓ ﺃﻭ ﻳﺄﻣﺮﻭا ﺭﺟﻼ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ
المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقى: (419) ﺑﺎﺏ ﻣﺬاﻛﺮﺓ اﻟﻌﻠﻢ ﻭاﻟﺠﻠﻮﺱ ﻣﻊ ﺃﻫﻠﻪ واللفظ له مستدرک حاکم: (322) صحيح
معلوم ہوا قرآن وحدیث پر مشتمل مجالس و حلقوں کا انعقاد اور شروع میں قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام مستحب عمل ہے۔
اور کان کا لفظ استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔
اس أثر سے پہلے امام خطیب بغدادی نے کہا:
ﻭﺃﺳﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﺳﻮﺭﺓ ﺃﻭ ﺁﻳﺎﺕ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ ، ﻗﺒﻞ ﺗﺪﺭﻳﺲ اﻟﻔﻘﻪ ﺃﻭ ﺑﻌﺪﻩ
المتفق والمفترق للخطيب:2/ 262
حافظ ابن الصلاح نے کہا:
ﻭﻳﺴﺘﺤﺐ اﻓﺘﺘﺎﺡ اﻟﻤﺠﻠﺲ ﺑﻘﺮاءﺓ ﻗﺎﺭﺉ ﻟﺸﻲء ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ اﻟﻌﻈﻴﻢ
مقدمة ابن الصلاح: ص: 242 اور دیکھیئے الشذ الفياح: 1/ 63، التقييد والإيضاح:ص: 248
اس مناسبت سے مزید توضیحات ملاحظہ فرمائیں:
ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﺩﻛﻴﻦ. ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ.ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ. ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻭاﺋﻞ. ﻗﺎﻝ: ﺷﻬﺪﺕ اﻟﻤﻮﺳﻢ ﻣﻊ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻓﺨﻄﺒﻨﺎ ﺃﻭ ﻓﺨﻄﺐ ﻓﻘﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ اﻟﺒﻘﺮﺓ. ﻓﻔﺴﺮﻫﺎ. ﻭﻭ اﻟﻠﻪ ﺇﻧﻲ ﻷﻇﻦ ﺃﻥ ﻟﻮ ﺃﻥ اﻟﺘﺮﻙ ﺷﻬﺪﺗﻪ ﻓﻔﻘﻬﻮا ﻣﺎ ﻗﺎﻝ ﻷﺳﻠﻤﻮا
الطبقات الكبرى- متمم الصحابة- الطبقة الرابعة:(58) صحیح ابو بکر بن عیاش اور عاصم بن بھدلہ قراءت میں ثقہ،حجہ ہیں۔
یہ أثر کئ طرق واسانید سے مروی ہے اور دوسرے طریق میں سورہ النور کا ذکر ہے ۔دیکھیے تفسیر الطبری:(88 ،89 ،85 ،86) ،فضائل الصحابة لأحمد :(1936) ،فضائل القرآن للقاسم بن سلام:ص:250 ،المعرفة والتاريخ للفسوى :1/ 495
عبد الرزاق ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ اﻟﻬﺬﻟﻲ ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻠﺖ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺴﻦ ﻭﻫﻮ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﺬاﻛﺮﺕ اﺑﻨﻪ ﺷﻴﺌﺎ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻓﺎﻧﻔﺘﻞ ﺇﻟﻴﻨﺎ………. ﻓﻘﺎﻝ: ﺇﻥ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ اﻹﺳﻼﻡ ﺑﻤﻨﺰﻝ، ﺇﻥ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻛﺎﻥ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺑﻤﻨﺰﻝ، ﻛﺎﻥ ﻋﻤﺮ ﻳﻘﻮﻝ: ﺫاﻛﻢ ﻓﺘﻰ اﻟﻜﻬﻮﻝ ﺇﻥ ﻟﻪ ﻟﺴﺎﻧﺎ ﺳﺆﻻ، ﻭﻗﻠﺒﺎ ﻋﻘﻮﻻ، ﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻡ ﻋﻠﻰ ﻣﻨﺒﺮﻧﺎ ﻫﺬا، ﺃﺣﺴﺒﻪ ﻗﺎﻝ: ﻋﺸﻴﺔ ﻋﺮﻓﺔ، ﻓﻴﻘﺮﺃ ﺳﻮﺭﺓ اﻟﺒﻘﺮﺓ ﻭﺳﻮﺭﺓ ﺁﻝ ﻋﻤﺮاﻥ ﻳﻔﺴﺮﻫﺎ ﺁﻳﺔ، ﺁﻳﺔ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﺜﺠﺔ ﺑﺤﺮا ﻏﺮﺑﺎ
مصنف عبد الرزاق: (8123)، المعجم الكبير للطبرانى: (10620) متنه ثابت
(مجالس علم ،مجالس فقہ،مجالس دینیہ کے انعقاد کے کئ مقاصد وفوائد ہیں)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺯﺭﻋﺔ ﻗﺎﻝ: ﻭﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ( هو ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻌﺰﻳﺰ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ اﺑﻦ اﻟﻔﺎﺭﺳﻲ اﻟﻘﻴﺴﺮاﻧﻲ له ترجمة في تاريخ دمشق،و في الجرح والتعديل روى عنه أبي زرعة الدمشقي،ويعقوب بن شيبة و محمد بن داهر وهو مقبول الحكاية والأثر ) ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺳﻤﺮﺓ ﺃﺑﻮ ﻫﺰاﻥ( روى عنه جماعة الثقات وهو من أهل الفضل له ترجمة في تاريخ دمشق ،وفي سير أعلام النبلاء ) ﺃﻧﻪ ﺳﻤﻊ ﻋﻄﺎء اﻟﺨﺮاﺳﺎﻧﻲ ﻳﻘﻮﻝ: ﻣﺠﺎﻟﺲ اﻟﺬﻛﺮ ﻫﻲ ﻣﺠﺎﻟﺲ اﻟﺤﻼﻝ ﻭاﻟﺤﺮاﻡ، ﻛﻴﻒ ﻳﺸﺘﺮﻱ ﻭﻳﺒﻴﻊ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﻭﻳﺼﻮﻡ، ﻭﻳﻨﻜﺢ ﻭﻳﻄﻠﻖ، ﻭﻳﺤﺞ، ﻭﺃﺷﺒﺎﻩ ﻫﺬا۔
تاريخ أبي زرعة الدمشقي: ص: 359 واللفظ له، حلية الأولياء لأبي نعيم: 5/ 195، مسند الشاميين: (2299)، تلخيص المتشابه في الرسم: 2/ 735، المتفق والمفترق: 1/ 94 سنده جيد
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺯﺭﻋﺔ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ، ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺷﻌﻴﺐ ﻋﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻣﺮﻳﻢ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﻳﻘﺪﻡ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻗﻼﺑﺔ، ﻓﻴﻨﺰﻝ ﺩاﺭ ﺻﻔﻮاﻥ، ﻓﻘﺪﻡ ﻓﻨﺰﻝ ﺩاﺭﻳﺎ ﻓﻘﻠﺖ ﻟﻪ: ﻳﺎ ﺃﺑﺎ ﻗﻼﺑﺔ: ﻛﺎﻥ اﻟﻠﻪ ﻳﻨﻔﻌﻨﺎ بمجالستك
تاريخ أبي زرعة الدمشقي :ص:305 صحیح
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺨﺪﺭﻱ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻗﺎﻝ: ﺗﺬاﻛﺮﻭا اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻓﺈﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻳﻬﻴﺞ اﻟﺤﺪﻳﺚ
سیدنا ابو سعید خدری رضی الله عنہ فرماتے ہیں:
حدیث کا مذاکرہ کرو پس بلاشبہ حدیث سے حدیث یاد آتی ہے ۔
سنن دارمى:(617) دوسرا نسخہ(604) صحيح
حدیث کے مذاکرہ کی مختلف صورتیں ہیں جن میں ایک صورت
درس بخاری ہے جس کا مقصد لوگوں کو بھولا ہوا سبق یاد کرانا اور قرآن وحدیث سے جوڑنے کی کوشش ہے۔
ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﻟﻲ ﻃﺎﻭﺱ اﺫﻫﺐ ﺑﻨﺎ ﻧﺠﺎﻟﺲ اﻟﻨﺎﺱ
عمرو سے روایت ہے کہ مجھے امام طاووس رحمة الله عليه نے کہا: ہمیں لے چلو ہم ( مذاکرہ حدیث کے لئے) لوگوں کے پاس بیٹھیں گے ۔
سنن دارمی :(623) صحيح
سنن دارمی کے محقق اس کی توضیح یوں کرتے ہیں:
ومراده العلماء منهم، لتحصل لهم مذاكرت العلم
سنن دارمی: (607) باب مذاكرة العلم بتحقیق الزھرانی
ﻋﻦ ﻋﻠﻘﻤﺔ، ﻗﺎﻝ: ﺗﺬاﻛﺮﻭا اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻓﺈﻥ ﺫﻛﺮﻩ ﺣﻴﺎﺗﻪ
سنن دارمى: (627) صحیح
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻓﻀﻴﻞ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ اﻟﺤﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ اﻟﻌﻜﻠﻲ، ﻭاﺑﻦ ﺷﺒﺮﻣﺔ، ﻭاﻟﻘﻌﻘﺎﻉ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ، ﻭﻣﻐﻴﺮﺓ، ﺇﺫا ﺻﻠﻮا اﻟﻌﺸﺎء اﻵﺧﺮﺓ، ﺟﻠﺴﻮا ﻓﻲ اﻟﻔﻘﻪ، ﻓﻠﻢ ﻳﻔﺮﻕ ﺑﻴﻨﻬﻢ ﺇﻻ ﺃﺫاﻥ اﻟﺼﺒﺢ
سنن دارمى: (635) صحیح
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻣﺮﻭاﻥ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ اﻟﻠﻴﺚ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺗﺬﻛﺮ اﺑﻦ ﺷﻬﺎﺏ ﻟﻴﻠﺔ ﺑﻌﺪ اﻟﻌﺸﺎء ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻭﻫﻮ ﺟﺎﻟﺲ ﻣﺘﻮﺿﺌﺎ ﻗﺎﻝ: ﻓﻤﺎ ﺯاﻝ ﺫﻟﻚ ﻣﺠﻠﺴﻪ ﺣﺘﻰ ﺃﺻﺒﺢ ﻗﺎﻝ ﻣﺮﻭاﻥ ﺟﻌﻞ ﻳﺘﺬاﻛﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ
سنن دارمى :(640) صحیح
اہل بدعت اور خواہش پرست لوگوں کی مجلس سے دور رہیں:
سلف صالحین اس سے روکتے تھے۔
چند اقوال سلف صالحین ملاحظہ فرمائیں:
ﻋﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﻭاﺑﻦ ﺳﻴﺮﻳﻦ: ﺃﻧﻬﻤﺎ ﻗﺎﻻ: ﻻ ﺗﺠﺎﻟﺴﻮا ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻷﻫﻮاء، ﻭﻻ ﺗﺠﺎﺩﻟﻮﻫﻢ، ﻭﻻ ﺗﺴﻤﻌﻮا ﻣﻨﻬﻢ
سنن دارمی: (415) صحیح
ﻗﺎﻝ: ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺣﺮﺏ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﻋﻦ ﺃﻳﻮﺏ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮقلاﺑﺔ: ﻻ ﺗﺠﺎﻟﺴﻮا ﺃﻫﻞ اﻷﻫﻮاء ﻭﻻ ﺗﺠﺎﺩﻟﻮﻫﻢ ﻓﺈﻧﻲ ﻻ ﺁﻣﻦ ﺃﻥ ﻳﻐﻤﺴﻮﻛﻢ ﻓﻲ ضلاﻟﺘﻬﻢ ﺃﻭ ﻳﻠﺒﺴﻮا ﻋﻠﻴﻜﻢ ﻣﺎ ﻛﻨﺘﻢ ﺗﻌﺮﻓﻮﻥ
الطبقات الكبرى لابن سعد :7/ 137، سنن دارمی ،ﺑﺎﺏ اﺟﺘﻨﺎﺏ ﺃﻫﻞ اﻷﻫﻮاء، ﻭاﻟﺒﺪﻉ، ﻭاﻟﺨﺼﻮﻣﺔ: (405)، البدع لابن وضاح: (121)، القدر للفریابی: (366،370) صحيح
ﻗﺎﻝ: ﻭﺳﻤﻌﺖ اﻟﻔﻀﻴﻞ ﻳﻘﻮﻝ: ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻭﻣﻼﺋﻜﺘﻪ ﻳﻄﻠﺒﻮﻥ ﺣﻠﻖ اﻟﺬﻛﺮ ﻓﺎﻧﻈﺮ ﻣﻊ ﻣﻦ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺠﻠﺴﻚ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ ﻣﻊ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺪﻋﺔ ﻓﺈﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻻ ﻳﻨﻈﺮ ﺇﻟﻴﻬﻢ, ﻭﻋﻼﻣﺔ اﻟﻨﻔﺎﻕ ﺃﻥ ﻳﻘﻮﻡ اﻟﺮﺟﻞ ﻭﻳﻘﻌﺪ ﻣﻊ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺪﻋﺔ. ﻭﺃﺩﺭﻛﺖ ﺧﻴﺎﺭ اﻟﻨﺎﺱ ﻛﻠﻬﻢ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺳﻨﺔ ﻭﻫﻢ ﻳﻨﻬﻮﻥ ﻋﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﺒﺪﻋﺔ
حلية الأولياء لأبى نعيم الأصبهاني :8/ 104صحيح
(بدعتی کی تعظیم درحقیقت اسلام کو گرانے میں مدد کرنا ہے)
آخر پر ایک مرفوع حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں:
ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻗﺎﻟﺖ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻣﻦ ﻭﻗﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﺪﻋﺔ ﻓﻘﺪ ﺃﻋﺎﻥ ﻋﻠﻰ ﻫﺪﻡ اﻹﺳﻼﻡ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں: کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بدعتی کی عزت و توقیر کی تو بلاشبہ اس نے اسلام کو گرانے پر مدد کی۔
الشریعہ للآجری: (2040) سنده حسن لذاته
الحاصل: مروجہ اجتماع، کانفرس، علمی مجالس، تقاریب صحیح البخاری کا اہتمام کرنا ادلہ شرعیہ اور ذکر کردہ تصریحات علمیہ کی روشنی میں جائز ومستحب ہے۔
اور بعض اوقات یہ واجب ہے۔
واجب اس وقت ہو جاتا ہے جب قرآن وحدیث پر باطل کی طرف سے نقد و جرح اور باطل تاویلات شروع ہوں یا صحیح البخاری وغیرہ کتب احادیث پر زہر اگلا جائے۔
تو ان کا دفاع کرنا اہل علم وفضل پر واجب ہو جاتا ہے اور عام لوگوں پر اس مبارک عمل کے دفاع پر مال وجان کی صورت میں تعاون کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
اسی طرح لوگوں کے عقائد وایمان اور اعمال کی اصلاح کے لئے بھی ایسی مجالس و پروگرامز کا انعقاد ضروری ہے۔
رب العالمین ہمیں قرآن وحدیث، علم حدیث پر اسی طرح ایمان لانے کی توفیق دیں جس طرح صحابہ کرام، سلف صالحین، اور ائمہ محدثین ایمان لائے اور انہی مقدس ومبارک ہستیوں کی طرح دین اسلام، قرآن وحدیث کے ساتھ محبت وعمل کرنا نصیب فرمائیں۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




