سوال (3808)
کیا تراویح کے بعد خلاصہ قرآن بیان کرنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور صحابہ کے ادوار میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ہے؟
جواب
تراویح سے پہلے یا بعد کسی بھی وقت درس قران دینا ایک جائز اور مباح عمل ہے، اس کو لازمی/ فرض یا ممنوع/ حرام قرار دینا “بدعت” ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سوال: کیا نماز تراویح کے دوران یا بعد میں مروجہ خلاصہ قرآن بیان کرنا بدعت کہلائے گا؟
جواب: دینی وعظ و نصیحت کبھی بھی دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ لوگوں کے مزاج اور کیفیت کا خیال رکھا جائے، انہیں کوفت یا تنگی نہ ہو، اور وہ آمادہ اور پذیرائی رکھنے والے ہوں۔
اگر مختصر خلاصہ، ترجمہ یا وضاحت پیش کرنا چاہیں تاکہ لوگ سن سکیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ جائز اور مستحب ہے، بشرطیکہ شرحِ صدر اور محبت کے ساتھ پیش کیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



