سوال (5987)

“ترکِ رفع یدین” (یعنی صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا اور رکوع یا رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ نہ اٹھانا) کے بارے میں اہلِ سنت (احناف) کے نزدیک متعدد احادیث و آثار منقول ہیں۔
میں نیچے چند مشہور احادیث و روایات درج کر رہا ہوں
1. حدیثِ ابن مسعودؓ

عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ؟ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ. (صحیح مسلم: حدیث 390، سنن ابی داؤد: 748)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا:
“کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟”
پھر انہوں نے نماز پڑھی اور صرف پہلی تکبیر (تکبیر تحریمہ) کے وقت ہاتھ اٹھائے۔
2. روایت امام ابوحنیفہؒ کے واسطے سے

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ لَا يَعُودُ.
(جامع الترمذی، باب ما جاء لا یرفع یدیه إلا فی أول مرۃ، رقم 257)

حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ صرف ابتداءِ نماز (تکبیرِ اولیٰ) کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر دوبارہ نہیں اٹھاتے تھے۔
ترمذی نے فرمایا:

“وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ”

یعنی یہ اہلِ کوفہ (فقہائے احناف) کا قول ہے۔
3. اثر حضرت علیؓ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:إِنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ.
(مصنف ابن أبي شيبة: 1/391)

حضرت علیؓ نے فرمایا: نبی ﷺ صرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے
4. روایت براء بن عازبؓ

قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ. (سنن ابی داؤد: 749)

ترجمہ:حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر دوبارہ نہ اٹھائے۔
5. عملِ صحابہؓ و تابعین
حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت علیؓ، حضرت براء بن عازبؓ، امام ابوحنیفہؒ، امام سفیان ثوریؒ، امام ابراہیم نخعیؒ اور دیگر اہلِ کوفہ سے یہی عمل منقول ہے کہ وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے سوائے تکبیرِ تحریمہ کے۔
مراجع (مکمل حوالہ جات)
صحیح مسلم، حدیث 390
سنن ابی داؤد، حدیث 748–749
جامع الترمذی، حدیث 257
مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 1 صفحہ 391
مسند احمد بن حنبل، 1/386
السنن الکبریٰ للبیہقی، 2/72
اس کا جواب دیں مشائخ کرام؟

جواب

ان تمام روایات کے متعلق میں نے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب جزء رفع الیدین کی شرح ، مطبوعہ دارالابلاغ لاہور میں وضاحت کردی ہوئی ہے۔ وہاں سے مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

فضیلۃ العالم امان اللہ عاصم حفظہ اللہ

پہلی روایت میں مسلم کا جو حوالہ دیا ہے وہاں پر رفع الیدین کرنے کی روایات ہیں۔
دوسری بات یہ روایت ضعیف ہے یہاں تک کہ خود علامہ عینی حنفی نے کہا ہے۔
باقی نیچے بھی معاملہ ایسا ہی ہے۔
صحیح ترین کو چھوڑ کر ان روایات کو اپنانا دانشمندی نہیں کہلاتا۔
پھر خود جو مسلم کا حوالہ لکھا ہے اسے ہی کم از کم دیکھ لیں۔
تعصب عقل مار کر آنکھوں کو اندھا کر دیتا ہے۔

فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ

اس مسئلہ کے بارے متعدد بار وضاحت ہو چکی ہے۔
صحیح مسلم میں ایسے کوئی الفاظ موجود نہیں ہیں البتہ سنن أبو داود سمیت دیگر کتب میں موجود ہیں اور اس روایت کو کبار ائمہ محدثین نے ضعیف وغیر ثابت کہا ہے۔
عدم رفع الیدین پر پیش کی جانے والی جتنی بھی روایات ہیں سب ضعیف ہیں۔
اور اثبات رفع الیدین کی احادیث صحیح بھی ہیں اور بہت زیادہ ہیں اب صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے ضعی،غیر ثابت روایات پیش کرنا بد نصیبی سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے۔
یہ لوگ ہمیشہ سے صحیح اور صریح ادلہ شرعیہ کے مقابلے میں ضعیف ،مبھم اور غیر صریح چیزیں پیش کرتے ہیں جس سے لوگوں کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے ہے۔

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ