سوال 6647
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ تشھد میں کہنیوں اور بازوؤں کی کیا کیفیت ہوگی دلیل سمیت وضاحت مطلوب ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تشہد میں ہاتھوں اور کہنیوں کی کیفیت یوں ہے: ہاتھ ران یا گھٹنے دونوں پر رکھے جا سکتے ہیں، گویا کہ گھٹنے کو پکڑنے والی کیفیت۔ دائیں ہاتھ کی انگلی اُٹھائی ہوئی ہوگی، باقی انگلیاں مڑی رہیں گی۔ دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے پیچھے ران پر رکھنا بھی جائز اور اولٰی ہے۔ کہنی اور زراع (بازو) کو بھی ران پر بچھا دینا افضل ہے۔
بعض علماء نے ہاتھ اٹھانے کی طرف رجوع کیا ہے، جیسا کہ نسائی اور ابوداؤد میں مرفق کو اٹھا کے رکھنے کا ذکر ہے، لیکن دلائل کی روشنی میں ہاتھ بچھا کے رکھنا زیادہ بہتر اور اولٰی ہے۔
تحریری تفصیلات کے لیے ہمارے مشائخ کی کتابوں میں مزید وضاحت موجود ہے، ان شاء اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




