سوال (4798)
کیا تشہد میں فرض نماز والی مسنون دعاؤں کے علاوہ عربی زبان میں دعا کی جا سکتی ہے؟ یا صرف مسنون دعائیں ہی پڑھی جائیں۔
جواب
تشہد میں پہلے وہ دعائیں پڑھی جائے، جس پر امر موجود ہے، جیسے جس دعا میں چار باتوں سے پناہ مانگنے کا حکم ہے، اس کے بعد “اللهم انی ظلمت” والی دعا پڑھ لیں، اس کے بعد تشھد کے حوالے سے جو دعا آپ کو یاد ہو، وہ پڑھ لیں، اس کے بعد “فلیختر بما شاء” اختیار ہے، اختیار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی دعائیں بنا لے، عربی بندے تو بنا سکتا ہے، لیکن عجمی کیا کرے گا، اس لیے جو قرآن و حدیث میں دیگر دعائیں وارد ہیں، وہ دعائیں پڑھ لے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: شیخ محترم قرآنی دعائیں تشھد میں پڑھ سکتے ہیں؟
مثلا: ربنا اتنا فی الدنیا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار،
جواب: بطور دعا کے کوئی چیز پڑھتے ہیں، تو وہ قرآنی حکم سے نکل آتی ہے، قرآن پڑھنا منع ہے، رکوع یا سجدے میں سورۃ اخلاص یا دیگر سورتیں پڑھنا شروع کردے یہ غلط ہے، باقی قرآنی دعائیں دعا کی صورت بندہ پڑھ سکتا ہے، لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ رکوع و سجود میں مسنون دعائیں پڑھی جائیں، اس کے بعد قرآن و حدیث کی کوئی بھی دعا پڑھ سکتے ہیں، سجدہ میں بھی پڑھ سکتے ہیں، تشھد میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




