سوال         6823

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم کیا موبائل میں تصویر کھینچنا گناہ ہے۔ کیا تصویر بنانے والے کو عذاب ہوگا۔ اور جو حدیث ہے تصویر کے متعلق وہ کونسی تصویر کے متعلق ہے؟ رہنمائی فرما دیں شکریہ

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیے، تصویر آخر تصویر ہے۔ آپ اسے کیمرے سے بنائیں، ڈیجیٹل کیمرے سے بنائیں، اسے عکس کہیں، خطاطی کہیں، اسکیچ کہیں یا کوئی اور نام دے دیں، حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ ص، و، ر (صُوَر) اور ص، و، ر کے ساتھ گول ت (ۃ) یعنی جسے ہم “ہ” کہتے ہیں (صُورۃ)۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب اس کا اطلاق “تصویر” پر ہوگا تو وہ اسی حکم کے دائرے میں آئے گی، اور جو اس کے تحت آئے گا وہ حرمت کے زمرے میں شمار ہوگا۔
لہذا اس کو رواج دینا اور عام کرنا جیسا کہ ہمارے ہاں چل پڑا ہے سیلفیاں، تقریبات کی تصاویر، حتیٰ کہ مردے کی تصاویر اور پوری پوری ویڈیوز بنانا یہ درست نہیں ہے۔ اگرچہ عمومِ بلویٰ کی وجہ سے ناجائز کہنے والے بھی خود اس لپیٹ میں آ چکے ہیں، لیکن فتویٰ دیانت کے ساتھ وہی دینا چاہیے جو حق ہو: کہ اس چیز کو زیادہ رواج دینا ناجائز ہے۔
البتہ دینی امور میں اگر کوئی ضرورت پیش آجائے آج کے دور میں جب میڈیا ایک محاذ (میڈیا وار) کی شکل اختیار کر چکا ہے تو اہلِ علم نے اس پہلو پر بھی کلام کیا ہے۔ مثلاً لاہور سے شائع ہونے والا موقر جریدہ ماہنامہ محدث اس موضوع پر “تصویر نمبر” شائع کر چکا ہے، جس میں ضرورت کے تحت میڈیا کے استعمال پر گفتگو کی گئی ہے۔ چونکہ میڈیا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے، اگر اسی راستے سے دین کی کوئی مؤثر آواز پہنچ سکتی ہو تو بقدرِ ضرورت اس کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔
تاہم ذاتی اور سماجی سطح پر جو عام رواج بن چکا ہے فنکشنز، شادیاں، زندوں اور مردوں کی تصاویر اس میں احتیاط برتنی چاہیے اور حتی الامکان تصویر سے بچنا چاہیے۔ یہی دیانت اور تقویٰ کا تقاضا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ