سوال (1357)

کیا تصویر والی شرٹ كے ساتھ نماز ہوجاتی ہے؟

جواب

جب شکل کو ضائع کر دیا جائے تو تصویر کا حکم نہیں رہتا ہے ، بعض صحابہ کے فتاوی اس پر موجود ہیں۔
یہ تو تصویر نہیں ہے البتہ ایسی چیزوں کو نمازی پسند نہیں کرتے اور بعض لا علمی کی وجہ سے اس پر اعتراض کریں گے، لہذا بچنا اولی ہے۔

فضیلۃ الباحث اسامہ شوکت حفظہ اللہ

سوال: کوئی جرسی یا بنیان جو اندر سے پہنا ہو، اس میں تصاویر ہوں تو کیا اس سے نماز ہو جائے گی۔

جواب: جی نماز ہو جائے گی، بس کوشش کریں کہ تصاویر سے دور رہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم تصویر کے حوالے سے اپنا موقف پیش فرما دیں۔

جواب: تصاویر بن بھی رہی ہیں، رواج بھی دیا جا رہا ہے، ہم سمیت کوئی محفوظ نہیں ہے، لیکن ہمارا موقف یہ ہے کہ ذی روح کی تصویر یا ایسی چیز کی تصویر جس کی بندگی ہو رہی ہے، وہ حرام ہے، اس کو رواج نہ دینا چاہیے، نہ اس کا کاروبار کرنا چاہیے، نہ اس کو پھیلانا چاہیے، ہمارے ہاں تصویر کا حکم حرمت کا تھا، حرمت کا ہی رہے گا،  تصویر نمبر محدث شمارے نے شایع کیا تھا، وہ دیکھ لیں، بوقت ضرورت علماء کو گنجائش دی ہے، این آئے سی، اور پاسپورٹ کی تصویر کی گنجائش دی تھی، اہل علم کے کام کے لیے دی گئی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تصاویر بنائی جائیں، مردوں کی بھی تصاور بنائی جا رہی ہیں، ہر بندہ چینل بنانے میں تلا ہے، تصویر ذی روح چیز کی حرام ہے، باقی عکس ہے، یا اس کے علاؤہ دیگر باتیں سچ تاویلات ہیں، ہاتھ سے تو کچھ کمی و کوتاہی ہو سکتی ہے، باقی عکس اور کیمرے میں تو من و عن تصویر ہے، وہ تو بالاولی شامل ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل:  شیخ آئنہ کے عکس پر کیا جواب دیب گئے ہم وہ بھی تو ایک دیر تک رہتا، یہ دوسرا عکس بھی ڈلیٹ کریں تو ختم ہو جاتا آئنہ کی طرح

اس کے علاؤہ عبادت کی شرط اگر لگائیں تو پھر موبائل کہ تصویر پر تو کوئی عبادت نہی کرتا وہ آج بھی وہی تصویر عبادت کے لیے استعمال ہوتی ہے جو قدیم جاہلیت میں؛ یہ چیزیں قطعاً اعتراض نہی بس شیخ یہ اشکالات ہیں بہتر ہے کہ ان کا ازالہ ہو جائے،

جواب: آئینہ دیکھنا یہ تصویر سازی نہیں ہے، اس پر قیاس کرنا کہ ڈیلیٹ ہو جاتی ہے، وہ خود بنائی ہے، خود مٹائی ہے، تصاویر بنا تو لی ہے، آئینہ صرف آپ کو ظاہر کرتا ہے، موبائل میں تصویر کشی کرتے ہیں، وہ عکس اور آئینہ نہیں ہے، باقی ایک ذی روح کی تصاویر بناتا ہے، ایک شخص صلیب یا ایسے درخت کی تصاویر بناتا ہے، جس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کو رواج دے رہا ہے، یہ مراد ہے، وہ حرام ہیں، کیونکہ ان چیزوں کی عبادت ہو رہی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ