سوال        6785

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
طہر کے علاوہ دی گئی طلاق کا کیا حکم ہوگا؟ جماع کے بعد دی گئی طلاق؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
طلاق طہر میں بغیر ہمبستری کئے دینا سنت طریقہ طلاق ہے، لیکن اگر اس طریقہ سے ہٹ کر بھی طلاق دی جائے تو وہ واقع ہو جائے گی۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی واضح حدیث ہے:

“ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ”.

تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہو گا، وہ یہ ہیں: نکاح، طلاق اور رجعت“۔ [سنن ابي داؤد حدیث: 2194]
اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذاق یا سنجیدگی میں دی جانے والی طلاق شمار ہوگی، وہاں اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حالت طہر میں یا حالات حیض میں دی جانے والی طلاق بھی طلاق شمار ہو گی۔
ایسے ہی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ:

أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً، فَانْطَلَقَ عُمَرُ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الْأُخْرَى فَلَا يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ”

انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ اس سے رجوع کر لے۔ پھر جب (حیض سے فارغ ہو کر) وہ غسل کر لے تو اسے چھوڑے رکھے پھر جب حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے تو اسے نہ چھوئے یعنی (صحبت نہ کرے) یہاں تک کہ اسے طلاق دے دے، پھر اسے روک لینا چاہے تو روک لے (اور طلاق نہ دے) یہی وہ عدت ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3425]
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دینے کی خبر جب رسول اللہ ﷺ کو ملی تو آپ نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ رجوع کر لے، ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تبھی تو رجوع کرنے کا حکم دیا،
تو صورت مسؤلہ میں تو طہر میں جماع کے بعد طلاق کا معاملہ ہے تو ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ