سوال 6998
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک شخص نے فریج اور فرنیچر کا سامان ایک لاکھ تیس ہزار میں فروخت کیا ایک سال کے ادھار پر چھ ماہ بعد بیچنے والے نے اسٹام کا مطالبہ کر دیا تو خریدنے والے نے کہا کہ میں نے اسٹام نہیں دینا آپ اپنا سامان واپس لے لیں جبکہ سامان کی حالت بھی خراب ہو چکی ہے؟
اب ایسے حالات میں شریعت ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس نے سامان بیچتے وقت گواہ تو بنائے ہوں گے، جو کہ ذمہ داری ہے۔ ہر چیز لکھی تو نہیں جاتی، مگر گواہ تو بنائے جاتے ہیں۔ اگر گواہ موجود ہیں تو پھر وہ قانونی مدد کے ذریعے مسئلے کو حل کر سکتا ہے اور اپنے جو نقصان ہوا ہے اسے پورا کروا سکتا ہے۔ لیکن قانون جو کچھ کر رہا ہے، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
لہٰذا اگر وہ صبر ہی کر جائے اور معاملہ اللہ کے حوالے کر دے تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، دورِ حاضر میں یہ اتنی بڑی کوئی رقم بھی نہیں ہے۔ باقی ایک دفعہ کوشش کر لے اسے سمجھانے کی، کسی صاحبِ علم کو بٹھا کر، کہ آپ نے زیادتی کی ہے اور آپ کو اس حوالے سے رقم ادا کرنی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



