علماء و مشایخ کانفرنس میں منکرات کا ذمہ دار کون ہے؟

اربابِ اقتدار اور اہل علم کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تعاون ہی درست راستہ ہے، کسی بھی خطے میں اس کے سوا امن و امان اور ترقی ممکن نہیں ہے، لہذا ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ حکمرانوں کو للکارنے اور ان کی ہر بات میں کیڑے نکالنے والا منہج بالکل درست نہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے قابلِ قدر حکمرانوں کے ہاں علمائے کرام اور ان کے دینی و فقہی موقف کی کتنی اہمیت ہے؟!
حکمرانوں کی معروف اور جائز کاموں میں اطاعت شرعی حکم ہے، لیکن جھنڈے کو سلام، سیلیوٹ، ساز باجے گانے بجانے یہ سب چیزیں تو منکرات اور ناجائز کاموں میں آتی ہیں، ان کی تو شریعت میں بالکل اجازت نہیں!
اس کے باوجود ہزاروں علماء و مشایخ کو اکٹھا کرکے ساز بجایا جائے، قومی ترانے کے لیے احتراما انہیں کھڑا بھی کیا جائے۔
اور پھر کہا جائے کہ ہم دین اور علماء کی رائے کا احترام کرتے ہیں…!
یہ کھلا تضاد ہے!
کون سی دینی یا قومی مصلحت ہے جو ساز بجانے یا قومی ترانے کے لیے احتراما کھڑے ہونے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے؟
جن علمائے کرام کی سنی جاتی ہے اور وہ دوسروں کو بھی یہی کہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور یہ کہ اگر بات اچھے طریقے سے بتائی جائے تو وہ بات سنتے ہیں.. وغیرہ وغیرہ۔
ان میں سے اگر کوئی اس پر رہنمائی فرما سکیں تو مہربانی ہو گی۔
کیا حکومت ان کے موقف کا احترام نہیں کرنا چاہتی یا پھر وہ اپنا موقف بتانے میں کوتاہی کرتے ہیں؟!

#خیال_خاطر

یہ بھی پڑھیں:مشینوں کی اسلامی تربیت، عصر حاضر کی اہم ضرورت