سوال (713)

ایک دوست عمرے کے لیے گے ہیں، انھوں نے عمرہ کر لیا ہے، اب وہ اپنے والد کی طرف سے عمرہ کرنا چاہ رہے ہیں اور ان کے والد حیات ہیں؟ والد صحت مند ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

بدنی وجسمانی عبادات میں صاحب استطاعت کی طرف سے نیابت نہیں کی جاسکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

اگر ان کے والد صاحب عمرے کی سکت نہیں رکھتے بڑھاپے کی وجہ سے یا کسی معذوری کی وجہ سے تو وہ ان کی طرف سے عمرہ کر سکتے ہیں۔ اگر ان کے والد صحت مند ہیں اور استطاعت بھی رکھتے ہیں تو پھر نہیں کر سکتے ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث واجد اقبال حفظہ اللہ

قدرت ركھنے والے زندہ شخص كى جانب سے حج اور عمرہ كرنا جائز نہيں ہے، ليكن عاجز شخص كے بارہ ميں يہ ہے كہ اگر اس كى جانب سے فرضى حج كيا جا سكتا ہے، ليكن نفلى حج كرنے كے متعلق علماء كرام كے مابين اختلاف پايا جاتا ہے۔
محدث فتویٰ کمیٹی
واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم عبداللہ عزام حفظہ اللہ

مقصد اجر و ثواب والد کو پہنچانا ہے، اولاد والدین کے لیے صدقہ جاریہ ہے، اگر بیٹا والد کی طرف سے الگ سے نہ بھی کرے تو بھی اولاد کی نیکی کا اجر والدین کو پہنچتا ہے، ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ اس کو اجر سے نوازے گا۔

فضیلۃ الباحث نعمان خلیق حفظہ اللہ

سوال: والدین حیات ہیں ان کے نام پر عمرہ کرنا کیسا ہے؟

جواب: عمرہ بدل اس زندہ کی طرف سے کیا جاسکتا ہے جو مالی استطاعت رکھتا ہو لیکن جسمانی استطاعت نہ ہو۔

اور میت کی طرف سے مطلقاً کیا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

سوال: والدین حیات ہیں ان کے نام پر عمرہ کرنا کیسا ہے؟

جواب: پچھلے جواب میں اصول بتادیا تھا۔

بہرحال اگر والدین بقید حیات مالی استطاعت رکھنے کے باوجود جسمانی استطاعت نہیں رکھتے تو انکی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے۔

اور اگر دونوں استطاعتیں نہیں ہیں تو انکی طرف سے عمرہ نہیں کیا جاسکتا۔

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ