سوال 6866
السلام علیکم و رحمۃ اللّہ وبرکاتہ
کیا ماں باپ اپنے بچوں کا قرض زکوٰۃ کے پیسوں سے ادا کرسکتے ہیں؟
جواب
دیکھیے، اگر بچے والدین کی کفالت میں ہیں تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک دوسرے کو زکوٰۃ دی جا سکے۔ نہ بچے والدین کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اور نہ والدین بچوں کو یہ صورت سرے سے بنتی ہی نہیں۔
اور اگر وہ الگ ہو چکے ہیں اور اپنے معاملات خود چلا رہے ہیں، تب بھی اصل قاعدہ یہی ہے کہ زکوٰۃ ایک دوسرے کو نہیں دی جاتی۔
البتہ ایک صورت بعض علماء نے بیان کی ہے مشائخ ہمارے لجنہ کے اس کی تائید، تصدیق یا انکار واضح کریں گے اور وہ یہ ہے کہ اگر بیٹا یا بیٹی (جو الگ رہتے ہوں، مثلاً شادی شدہ ہوں اور اپنے گھر کے ذمہ دار ہوں) کسی جائز قرضے میں پھنس جائیں، تو اس خاص مد میں والد یا والدہ زکوٰۃ کے پیسے دے سکتے ہیں۔
یعنی عمومی اخراجات کے لیے نہیں، بلکہ جائز قرض کی ادائیگی کے لیے، اس خاص مصرف میں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




