سوال 6884
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
زوجین کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے بیمار بچے کو نہلانے کا کیا حکم ہے؟ اس عمل کی کوئی اصل ہے؟
علمائے کرام راہنمائی فرمائیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
أگر والدین کی نذر لگ جانے کا شبہ ہو تو بچے کو نہلایا جاسکتا ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر سچ ہے (یعنی نظر میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تاثیر ہے) اور اگر کوئی چیز تقدیر سے آگے بڑھ سکتی تو نظر ہی بڑھ جاتی (لیکن تقدیر سے کوئی چیز آگے بڑھنے والی نہیں)۔ جب تم سے غسل کرنے کو کہا جائے تو غسل کرو۔ (کیونکہ جس کی نظر بد لگ جائے، اس کے غسل کے پانی سے نظر لگے ہوئے کو غسل کرا دیا جائے تو ٹھیک ہو جاتا ہے)۔
واللّٰہ أعلم۔
فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہمارے علم میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ والدین کے پانی سے بچے کو نہلایا جائے۔ البتہ ضرورت کے تحت اگر پانی کم ہو اور اسی سے نہلایا جائے تو یہ ایک الگ بات ہے۔
لیکن یہ عقیدہ رکھنا کہ اس سے شفا ملے گی جیسا کہ بعض عامل بتاتے ہیں، بلکہ ہمارے ہاں کچھ علماء نے بھی ذکر کیا تو ہمارے نزدیک یہ عمل بلا دلیل ہے۔
حدیث میں جو اصل مسئلہ مذکور ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص کی نظر لگی ہو، اس کے وضو کا پانی لے کر مریض پر ڈال دیا جائے۔ اصل بات یہ تھی، مگر اسے کیا سے کیا بنا دیا گیا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




