سوال 6922
والدین کی قبر کو چومنا کیسا ہے؟
جواب
اس کا جواب ویسے تو ایک جملے میں ہے کہ یہ اصل میں ہندو کلچر ہے۔ دوسری چیز اگر شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا وہ قول ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے: واللہ انی لاعلم انک حجر لا تضر ولا تنفع۔ حجر اسود کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے۔ نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ تو پھر یہ بھی ایک شرعی مسئلہ ہے کہ کس کس چیز کو بوسہ دیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں جی یہ مباح ہے، لیکن اگر تھوڑا سا دلائل کا موازنہ کیا جائے تو معاملہ اباحت سے کم از کم کراہت کی طرف چلا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
قبر کسی کی بھی ہو چومنا جائز نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



