سوال        6895

واٹر ریسکیو سنٹر جس کا مقصد سیلاب یا حادثات کی صورت میں دریاؤں یا نہروں میں ڈوبنے والوں کی ڈیڈ باڈیز تلاش کرنا ہوتا ہے۔
کیا اس کی تعمیر یا کشتیوں کی خریداری وغیرہ میں زکاۃ استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ معاملہ براہِ راست زکوٰۃ کے مصارف میں سے نہیں ہے۔ تاہم اگر کسی ادارے نے اس کا بیڑا اٹھایا ہو تو صورت مختلف ہو سکتی ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، آج کل بہت سے مساجد، مدارس اور دیگر ادارے عملاً ایک طرح سے بیت المال کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ حقیقی معنوں میں بیت المال نہیں ہوتے، لیکن خود کو اسی نوعیت کے اختیارات کا حامل سمجھتے ہوئے تصرف کرتے ہیں اور مالی معاملات انجام دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں اگر وہ شرعی اصولوں کے مطابق زکوٰۃ کو مستحقین تک پہنچا رہے ہوں، تو گنجائش نکل سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، اصل اعتبار یہی ہوگا کہ وہ مصرف شرعاً زکوٰۃ کے مصارف میں داخل ہے یا نہیں؛ اور اگر براہِ راست مصارفِ زکوٰۃ میں شامل نہیں تو پھر زکوٰۃ دینا درست نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ