سوال (4093)

ایک بھائی ہیں وہ زکاة کی رقم لینے سے یا اس مد میں راشن وغیرہ حاصل کرنے سے بچتے ہیں وہ زکاة کو پسند نہیں کرتے ہیں، ایک ویلفیئر فاؤنڈیشن ہے جو کہ زکاة اکھٹی کرتی ہے وہ اس بھائی سے تعاون راشن کی شکل میں تعاون کرنا چاہتی ہے، ان کا کہنا ہے جو یہ رقم فاونڈیشن کی ملکیت بن گئی ہے، اس کی کیفیت مختلف ہے اب یہ زکوة نہیں ہے، آپ راشن لے لیں کیا یہ بات ٹھیک ہے.

جواب

ویلفئیر فاؤنڈیشن کو بطورِ وکیل زکاۃ دی جاسکتی ہے کہ وہ مستحقین تک پہنچائے، اور ویلفئیر بھی زکات کے مصارف میں خرچ کرے،
رہی بات یہ کہ رقم کے بدلے راشن وغیرہ خرید کر زکاۃ میں دینا تو کبار اھل علم نے اس سے منع کیا ہے اور یہ حکم ویلفئیر کے لئے بھی ہے۔
کہ وہ بھی رقم ہی ادا کرے الا یہ کہ مستحق خود مطالبہ کرے کہ مجھے اپ زکوۃ کے پیسوں سے فلاں فلاں ضرورت کی اشیاء خرید کر دے دیں ،یا مستحق کو نقد دینے میں مصلحت نہ ہو مثال کے طور پہ وہ مجنوں ہو یا مال کو صحیح صرف کرنا نہ جانتا ہو یا یہ غالب گمان ہو کہ یہ فضولیات کے اندر مال کو اڑا دے گا وغیرہ تو ان مصالح کو دیکھتے ہوئے اس کی ضرورت کے مطابق اشیاء خرید کر زکوۃ کے پیسوں سے زکوۃ ادا کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم

فضیلۃ الشیخ فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ