سوال 6740
بریلوی مکتبہ فکر میں ولایت کا کیا معیار ہے اور یہ لوگ کن کو اللہ کا ولی سمجھتے ہیں؟
جواب
کہیں پڑھا تو نہیں لیکن اب تک جو ہم نے سمجھا ہے، وہ ان کے بڑے کچھ کہتے ہیں، ان کے چھوٹے کچھ کہتے ہیں، پھر چھوٹوں کے چھوٹے کچھ کہتے ہیں، پھر جو پکے ٹھکے ہیں وہ کچھ اور کہتے ہیں، پھر جو اہل تشیع سے متاثر ہیں وہ کچھ اور کہتے ہیں، پھر جو دیوبند سے متاثر ہیں وہ کچھ اور کہتے ہیں، تو ان کا کوئی ایک والد تو ہے نہیں، ٹھیک ہے۔ نہ ان کی نانی ایک ہے، بس اس طرح ان کے معاملات ہیں۔
ان کا رجحان بس یہ ہے کہ آیات اور اقوال پڑھ کر لوگوں کو متاثر کریں، مثال کے طور پر:
«اَلَّا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ»۔
لیکن اس کے ساتھ وہ جھوٹے اور سچے واقعات ملا کر اپنی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
حالانکہ ان کے جدِ امجد، احمد رضا خان رضوی نے خود بہت کچھ لکھا ہے، فتاویٰ رضویہ اور ملفوظات میں، اور کچھ جگہ صحیح باتوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ احمد رضا خان نے واضح طور پر کہا کہ ایسے جھوٹے اور مبالغہ آمیز قصے کہ جی درخت پر کوئی رہتا ہے، چراغ جل جاتا ہے یا کوئی غیر معمولی بات ہو جاتی ہے، ان پر نہ جائیں۔
لیکن بدقسمتی سے یہ لوگ باز نہیں آتے اور ہر معمولی یا فضول عمل کرنے والے کو کیا کچھ بڑا ولی قرار دے دیتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




