سوال       6714

نماز وتر فرض ہے یا سنت ہے؟ اور اس کی کتنی رکعت مسنون ہے؟ مستقل ایک پڑھنے میں کوئی حرج ہے؟ اور اس میں دعا قنوت کب پڑھنا مسنون اور افضل ہے؟

جواب

وتر سنت ہے، اور یہ تاکید کے ساتھ مؤکدہ ہے، لیکن فرض نہیں ہے۔
ایک وتر پڑھنا کافی ہے، اور اگر کوئی دوام کرے تو بھی کوئی حرج نہیں، البتہ ترغیب دی جا سکتی ہے کہ دو یا تین، حتیٰ کہ پانچ وتر بھی پڑھے۔ یہ ترغیب ہے، لیکن اس پر فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔
جہاں تک دعا کی بات ہے، دعائے قنوت کے بغیر بھی وتر مکمل ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر دعا کرنا چاہیں تو بہتر ہے کہ رکوع سے پہلے کی جائے اور بغیر ہاتھ اٹھائے کی جائے، یہی اولیٰ اور افضل ہے۔
بعد میں کرنا یا ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے، لیکن یہ جواز کے درجے میں آتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ