سوال 7000
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بوقت وضو آنکھوں کے لینز اتارے جائیں گے یا نہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بینائی کے لیے لینز لگانے میں حرج نہیں، لیکن اگر لینز کا مقصد صرف خوبصورتی ہو تو یہ ناجائز ہے اللہ کی تخلیق کو بدلنا ہے جوکہ شرعا حرام ہے۔ [النساء: 119]
وضو یا غسل میں آنکھوں کے اندر پانی پہنچانے کا حکم نہیں۔ لہذا لینز لگا ہو تو اتارنا ضروری نہیں وضو صحیح ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آرٹیفیشل اور مصنوعی جو چیزیں ہوتی ہیں، ان کا اتارنا کوئی ضروری نہیں ہوتا۔ اسی طرح لینز ہیں، اسی طرح مصنوعی دانت ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس میں ایک بڑا اہم پہلو ذہن نشین کر لیں کہ لینز لگانا صحت کے، آنکھوں کے لیے تباہ کن ہے۔ بہت سارے تجربات اور بہت ساری مثالیں میرے سامنے ہیں۔
خواتین نے بھی اور حضرات نے بھی مجھے بتایا کہ لینز چونکہ ایک آرٹیفیشل چیز ہے اور وہ آنکھ کے اندر جا کے لگتا ہے۔
تو یہ بسا اوقات سوئی کی ایک نوک کے برابر ہل جاتا ہے جس کے نتیجے میں آنکھ مسلسل بہتی رہتی ہے، درد رہتا ہے۔
اور پھر اس کے نتیجے میں آپریشن کروانا پڑتا ہے جس کا خرچہ فی زمانہ کم و بیش دس سے بارہ لاکھ روپیہ ہے۔
لہٰذا
“وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ”
کے تحت کوشش یہ کریں کہ لینز کی بجائے عینک استعمال فرما لیں۔
جزاک اللہ۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
فکس لینز میں غالباً یہ مسئلہ نہیں ہوتا۔ وہ آنکھ کا حصہ بن جاتا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ قمر حسن حفظہ اللہ



