سوال (6618)
السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ!
مشائخ کرام کیا مندرجہ ذیل بات کسی صحیح یا ضعیف حدیث میں ہیں؟
وضو میں بھی اسراف نہ کرو، چاہے تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو. پانی کے اسراف کو روکنے کیلئے پبلک مقامات (وضو خانہ وغیرہ) کیلئے کوئی مناسب تنبیہی میسج کیا ہوسکتا ہے؟
جواب
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
اس بارے میں روایات تو ضعیف یعنی وضو میں پانی کے اسراف کرنے پر لیکن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا اپنا عمل مبارک یہی ہے کہ کم پانی سے وضو کرتے تھے۔
ایسے ہی پانی رب العالمین کی عطاء کردہ نعمتوں سے ایک ہے اور سورۃ التکاثر کی آخری آیت بتاتی ہے کہ قیامت کے دن نعمتوں کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا.
اور سنن ترمذی وغیرہ میں صحت و میٹھے پانی کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیے جانے کا ذکر ہے۔
حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیں:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي الْعَبْدَ مِنْ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَلَمْ نُصِحَّ لَكَ جِسْمَكَ وَنُرْوِيَكَ مِنْ الْمَاءِ الْبَارِدِ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، (وہ یہ ہیں) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور صحیح سالم نے رکھا اور تمہیں ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں فرماتے رہے یعنی تمہیں ٹنھڈے، اورخوش ذائقہ پانی سے نہیں نوازا تھا۔
سنن ترمذی:(3358) تاريخ ابن معين روية الدورى: (٧٩) صحيح ابن حبان: (٧٣٦٤) ،مسند الشامیین :(۷۷۹،۳۵۸۷) سنده صحيح اور دیگر کئ کتب میں
اس حدیث کے علاوہ بھی احادیث صحیحہ ہیں جن میں نعمتوں کے متعلق سوال کیے جانے کا ذکر ہے۔
تو آپ یہ لکھ سکتے ہیں پانی بھی رب العالمین کی نعمتوں میں سے ایک مثالی نعمت ہے اور نعمتوں کے متعلق قیامت کے دن سوال ہو گا اس لئے اسے استعمال میں اسراف وزیادتی سے اجتناب کریں۔ والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




