سوال (6261)

شیخ اسکی دلیل یہی ہے یا کوئی اور؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہوگیا تو اُس نے (مسئلہ) پوچھا تو اُسے غسل کرنے کا حُکم دیا گیا۔ (اُس نے غسل کیا) تو وہ فوت ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا تھا، اُنہوں نے اسے قتل کر دیا اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مٹّی یا تیمّم کو پاک کرنے والا بنایا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں شک ہے (اُنہوں نے مٹّی کہا یا تیمّم) پھر یہ شک ختم ہو گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،/حدیث: 273] تخریج الحدیث: اسناده حسن صحيح

جواب

نہیں اس باب کی کوئی روایت ثابت نہیں ہے ۔ بعض کا اس روایت کو صحیح سمجھنا خطا ہے۔

ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﻌﺎﺹ ﻗﺎﻝ: اﺣﺘﻠﻤﺖ ﻓﻲ ﻟﻴﻠﺔ ﺑﺎﺭﺩﺓ ﻓﻲ ﻏﺰﻭﺓ ﺫاﺕ اﻟﺴﻼﺳﻞ ﻓﺄﺷﻔﻘﺖ ﺇﻥ اﻏﺘﺴﻠﺖ ﺃﻥ ﺃﻫﻠﻚ ﻓﺘﻴﻤﻤﺖ، ﺛﻢ ﺻﻠﻴﺖ ﺑﺄﺻﺤﺎﺑﻲ اﻟﺼﺒﺢ ﻓﺬﻛﺮﻭا ﺫﻟﻚ ﻟﻠﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻘﺎﻝ: ﻳﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺻﻠﻴﺖ ﺑﺄﺻﺤﺎﺑﻚ ﻭﺃﻧﺖ ﺟﻨﺐ؟ ﻓﺄﺧﺒﺮﺗﻪ ﺑﺎﻟﺬﻱ ﻣﻨﻌﻨﻲ ﻣﻦ اﻻﻏﺘﺴﺎﻝ ﻭﻗﻠﺖ ﺇﻧﻲ ﺳﻤﻌﺖ اﻟﻠﻪ ﻳﻘﻮﻝ: {ﻭﻻ ﺗﻘﺘﻠﻮا ﺃﻧﻔﺴﻜﻢ ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻛﺎﻥ ﺑﻜﻢ ﺭﺣﻴﻤﺎ} [ اﻟﻨﺴﺎء: 29]
ﻓﻀﺤﻚ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻟﻢ ﻳﻘﻞ شيئا، سنن أبو داود:(334)

اس روایت کی سند منقطع ہے۔
اور جو سند متصل ہے اس میں تیمم کا ذکر نہیں جیسا کہ امام أبو داود نے اگلی روایت میں وضاحت کر رکھی ہے۔
یوں یہ روایت معلول ہے۔
ہم نے عام ادلہ شرعیہ سے استدلال کیا ہے۔
جیسے لا يكلف الله نفسا إلا وسعها،
اور جہاں قرآن کریم میں تیمم کی جن صورتوں میں اجازت ہے۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ