سوال 6816
السلام علیکم و رحمۃ اللہِ وبرکاتہ
شیخ محترم ایک ساتھی کا سوال ہے کہ ایک خاتون کا رشتہ آیا ہے ان کا نام یشفین ہے کیا یہ نام صحیح ہے۔ جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نکاح میں سب سے زیادہ توجہ دین داری کی ہوتی ہے اور اخلاق کو دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عورت کے حوالے سے حسن، دولت اور خاندان کا ذکر بھی آتا ہے، لیکن ترجیح ہمیشہ دین پر دی جاتی ہے، یہی بنیادی بات ہے۔
اگر نام سمجھ میں نہیں آ رہا یا تبدیل کرنا پڑ رہا ہے، تو کاغذات وغیرہ بھی بدلنے ہوں گے۔ بعض لوگ افعال کو اسماء بنا بیٹھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’شفاء‘ جیسا نام ملتا ہے تو بس اسی سے ماخوذ ہے یہ بھی، معنی تو وہی دے گا وہ اسی کے ماخوذ سے ہے اور اصل معنی وہی رہے گا۔
عربی زبان میں آپ جسے چاہیں لقب دے سکتے ہیں، فاعل کو مفعول اور مفعول کو فاعل کر سکتے ہیں، اسم کو فعل اور فعل کو اسم کر سکتے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی سختی نہیں ہے، سب جائز ہے، ان شاء اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




