سوال (4598)

ضعیف احادیث بیان کرنا کیسا ہے؟

جواب

اگر بہت پیچھے جا کر تحقیق کریں تو اہل علم نے اپنی کتابوں میں ضعیف روایات کو کیوں جگہ دی ہے، وہ اس لیے ذکر کرتے تھے کہ کوئی روایت سند کے ساتھ کسی نے دیانت کے ساتھ ذکر کردی ہے تو بری الذمہ ہوجاتا تھا، اس لیے وہ ذکر کرتے تھے، اس لیے جو ان کو سند کے ساتھ دستیاب ہوا تو انہوں نے ذکر کردیا ہے، سند جیسی بھی تھی، اس نے سند دے دی ہے، اب آگے والا شخص دیکھ لے، دوسرا یہ ہے کہ سند کے ساتھ اس لیے بیان کرتے تھے کہ بعد میں آنے والا کسی کو دھوکہ نہ دے سکے، سند وغیرہ چینج کرکے اس کو صحیح قرار نہ دے، یہ اچھا ہوا ہے کہ ہر چیز سامنے آگئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ علماء کا عوام کو ضعیف روایات کو بیان کرنا کیسا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ روایت عقیدے کے معاملے میں شدید ضعف نہ ہو، اس سے کسی مسنون عمل کی نفی نہ ہو رہی ہو، مزید یہ ہے کہ اس کے طرق واضح کردیے جائیں، واضح بیان کردیا جائے کہ اس میں یہ کلام ہے، اس درجے کا کلام ہے، اس روایت کو واضح طور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

1: ضعیف روایت نا اعمال میں حجت ہے نا ہی فضائل میں۔
2: ضعیف روایت کو بطور دلیل بیان نہیں کیا جاسکتا۔
3: اگر کوئی روایت سندا ضعیف ہو لیکن اس کا معنی قرآن، حدیث، یا کسی صحابی کے اثر سے واضح ہورہا ہو تو اس روایت کو تو ضعیف ہی کہیں گے لیکن ساتھ میں وضاحت کردی جائے گی کہ یہ روایت سندا ضعیف ہے لیکن اس کا معنی فلاں دلائل/ قرائن کی وجہ سے صحیح ہے۔
اگر اعتراض لجنة العلماء، کے لوگو پر ہو تو یاد رکھیں اس میں نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نہیں بلکہ مطلقا “العلماء ورثة الانبیاء” لکھا ہے۔ جیسا کہ بخاری#67 میں تعلیقا درج ہے.

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ

سوال: اگر کوئی عالم ضعیف روایت بیان کرے اور اسکا ضعف نہ بتائے تو کیا وہ خیانت کر رہا ہے؟ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: عموماً اہل علم ایسا کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ان کو علم نہ ہو کہ یہ ضعیف ہے، ممکن ہے کہ اس کو پتا ہے، لیکن اس کے پاس اصل موجود ہو، یہ دونوں باتیں ہیں، اس بنا پر حسن ظن رکھنا چاہیے، باقی یہ بھی ہے کہ اس سے تنہائی میں پوچھنا چاہیے کہ تاکہ ممکن ہے کہ وہ اس کی توجیہ بیان کر سکے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

ضعیف روایت سے مراد وہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، بغیر وجہ ضعف کے اس کو بیان کرنا یہ خیانت ہے، لوگوں کے نعروں کے لیے ضعیف روایت بیان کرنا صحیح نہیں ہے، باقی عوام پوچھے تو اس کو یہ کہہ دینا کہ سند میں اشکال ہے، یہ بھی نہیں ہونا چاہیے، بات واضح ہونی چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

عمدا ضعیف روایت کو رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
احادیث متواترہ میں سے یہ مشہور حدیث سامنے رکھیں۔
یہی وجہ ہے کہ کبار صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین اور کئ سلف صالحین اسی ڈر کے سبب کثرت سے یا سرے سے حدیث بیان نہیں کرتے تھے یعنی وہ حد درجہ احتیاط کرتے تھے۔

مثلا: سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں:

ﺇﻧﻪ ﻟﻴﻤﻨﻌﻨﻲ ﺃﻥ ﺃﺣﺪﺛﻜﻢ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻛﺜﻴﺮا ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﺗﻌﻤﺪ ﻋﻠﻲ ﻛﺬﺑﺎ، ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ

یقینا مجھے بہت سی احادیث بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے۔
کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے تو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے
صحیح البخاری: (108)

ﺑﺎﺏ ﺇﺛﻢ ﻣﻦ ﻛﺬﺏ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ

سیدنا عبدالله بن زبیر رضی الله عنہ نے اپنے والد زبیر رضی الله عنہ سے کہا: میں نے آپ کو کبھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا جس طرح فلاں اور فلاں بیان کرتے ہیں ( اس کے جواب میں سیدنا زبیر بن العوام رضی الله عنہ نے ) فرمایا: بلاشبہ میں کبھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے الگ جدا تو نہیں ہوا لیکن میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے مجھ پر جھوٹ باندھا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔
صحیح البخاری: (107)

اس حدیث پر امام داود نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔

ﺑﺎﺏ ﻓﻲ اﻟﺘﺸﺪﻳﺪ ﻓﻲ اﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭسلم

سلف صالحین کا کثرت سے حدیث کے بیان کرنے میں حد درجہ احتیاط کرنےکی مزید کچھ مثالیں ملاحظہ کریں۔

ﻋﻦ اﻟﺴﺎﺋﺐ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺻﺤﺒﺖ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﻤﺪﻳﻨﺔ ﺇﻟﻰ ﻣﻜﺔ، ﻓﻤﺎ ﺳﻤﻌﺘﻪ ﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺤﺪﻳﺚ ﻭاﺣﺪ، سنن ابن ماجہ: (29) صحیح

ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻴﺮﻳﻦ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ، ﺇﺫا ﺣﺪﺙ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻓﻔﺮﻍ ﻣﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﺃﻭ ﻛﻤﺎ ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، سنن ابن ماجہ: (24) صحیح

ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻟﻴﻠﻰ، ﻗﺎﻝ: ﻗﻠﻨﺎ ﻟﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺭﻗﻢ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻗﺎﻝ: ﻛﺒﺮﻧﺎ ﻭﻧﺴﻴﻨﺎ، ﻭاﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺷﺪﻳﺪ، سنن ابن ماجہ: (25) صحیح

عن اﻟﺸﻌﺒﻲ ﻳﻘﻮﻝ: ﺟﺎﻟﺴﺖ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺳﻨﺔ، ﻓﻤﺎ ﺳﻤﻌﺘﻪ ﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺷﻴﺌﺎ
سنن ابن ماجہ: (26) صحیح

ﻋﻦ اﺑﻦ ﻃﺎﻭﺱ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺇﻧﺎ ﻛﻨﺎ ﻧﺤﻔﻆ اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭاﻟﺤﺪﻳﺚ ﻳﺤﻔﻆ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﺄﻣﺎ ﺇﺫا ﺭﻛﺒﺘﻢ اﻟﺼﻌﺐ ﻭاﻟﺬﻟﻮﻝ، ﻓﻬﻴﻬﺎﺕ، سنن ابن ماجہ: (27) صحیح

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

ﻭﻣﻦ ﻛﺬﺏ ﻋﻠﻲ ﻣﺘﻌﻤﺪا ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ، صحیح البخاری: (110)

اسی طرح نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

ﻻ ﺗﻜﺬﺑﻮا ﻋﻠﻲ، ﻓﺈﻧﻪ ﻣﻦ ﻛﺬﺏ ﻋﻠﻲ ﻓﻠﻴﻠﺞ اﻟﻨﺎﺭ،

مجھ پر جھوٹ نہ باندھو پس بے شک جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے وہ آگ میں داخل ہو گا۔
صحیح البخاری: (106)
مزید دیکھیے صحیح مسلم کا یہ باب

ﺑﺎﺏ ﻓﻲ اﻟﺘﺤﺬﻳﺮ ﻣﻦ اﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

ﻣﻦ ﻳﻘﻞ ﻋﻠﻲ ﻣﺎ ﻟﻢ ﺃﻗﻞ ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ النار

جو شخص میرے بارے میں وہ بات بیان کرے جو میں نے کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے
صحیح البخاری: (109)

اس حدیث کی شرح میں مفتی حافظ عبد الستار الحماد صاحب لکھتے ہیں:
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جوباتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط منسوب کی گئی ہیں، خواہ وہ ترغیب وترہیب سے متعلق ہوں یا احکام ومسائل سے، ان کا بیان کرنا جہنم میں جانے کا پیش خیمہ ہے، لہٰذا روایات قولی ہوں یا فعلی، قائل کو پورے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
خاص طور پر موضوع اور خود ساختہ روایات کا بیان کرنا کسی صورت میں جائز نہیں، صرف بتانے کے لیے نقل کی جاسکتی ہیں کہ یہ بے اصل اور بے بنیاد ہیں۔
اسی طرح ضعیف روایات کو بھی ایسے انداز میں پیش کرنا کہ سننے والے انھیں صحیح سمجھ بیٹھیں اور ان پر عمل کرنا ضروری قراردے لیں، یہ انداز بھی درست نہیں ہے۔
هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 109]
اس حدیث سے معلوم ہوا جس حدیث کی صحت وحکم کے بارے میں علم نہیں اسے بیان کرنے پر بھی آگ کی وعید ہے۔

امام ابن حبان نے اس حدیث پر یوں عنوان قائم کیا ہے۔

ﻓﺼﻞ ﺫﻛﺮ ﺇﻳﺠﺎﺏ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﻨﺎﺭ ﻟﻤﻦ ﻧﺴﺐ اﻟﺸﻲء ﺇﻟﻰ اﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻫﻮ ﻏﻴﺮ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺼﺤﺘﻪ
صحیح ابن حبان: (28)

ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻨﺒﺮ: ﻳﺎ ﺃﻳﻬﺎ اﻟﻨﺎﺱ ﺇﻳﺎﻛﻢ ﻭﻛﺜﺮﺓ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻨﻲ، ﻓﻤﻦ ﻗﺎﻝ ﻋﻠﻲ، ﻓﻼ ﻳﻘﻞ ﺇﻻ ﺣﻘﺎ، ﺃﻭ ﺇﻻ ﺻﺪﻗﺎ ﻭﻣﻦ ﻗﺎﻝ ﻋﻠﻲ ﻣﺎ ﻟﻢ ﺃﻗﻞ، ﻓﻠﻴﺘﺒﻮﺃ ﻣﻘﻌﺪﻩ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺭ

سنن دارمی: (243)، مسند أحمد بن حنبل: (22538) سنده حسن لذاته لأجل محمد بن إسحاق

ﻋﻦ ﺳﻤﺮﺓ ﺑﻦ ﺟﻨﺪﺏ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﺣﺪﺙ ﻋﻨﻲ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻭﻫﻮ ﻳﺮﻯ ﺃﻧﻪ ﻛﺬﺏ، ﻓﻬﻮ ﺃﺣﺪ اﻟﻜﺎﺫﺑﻴﻦ
سنن ابن ماجہ: (39) صحیح

اوپر جو ہم نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم پر عمدا جھوٹ باندھنے کی سزا بارے چند احادیث بیان کی ہیں اسی جیسی روایتیں نقل کرنے کے بعد امام جورقانی کہتے ہیں:

ﻓﺎﺭﺗﻜﺐ ﻫﺬﻩ اﻟﻜﺒﻴﺮﺓ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﻣﻨﻬﻢ: ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺴﺎﺋﺐ اﻟﻜﻠﺒﻲ ﻭﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻤﻌﺘﺰﻟﻲ
ﻭﻭﻫﺐ ﺑﻦ ﻭﻫﺐ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﻭﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺸﺎﻣﻲ اﻟﻤﺼﻠﻮﺏ ﻓﻲ اﻟﺰﻧﺪﻗﺔ ﻭﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﻨﺨﻌﻲ ﻭﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻧﺠﻴﺢ اﻟﻤﻠﻄﻲ ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺃﺑﺎﻥ اﻟﻤﺼﺮﻱ ﻭﻏﻴﺎﺙ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ اﻟﻨﺨﻌﻲ،
ﻭاﻟﻤﻐﻴﺮﺓ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﻜﻮﻓﻲ ﻭﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺠﻮﻳﺒﺎﺭﻱ ﻭﻣﺄﻣﻮﻥ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ اﻟﻬﺮﻭﻱ اﻟﺴﻠﻤﻲ ﻭﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻜﺎﺷﺔ اﻟﻜﺮﻣﺎﻧﻲ ﻭﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﻘﺎﺳﻢ اﻟﻄﺎﻳﻜﺎﻧﻲ ﻭﻏﻴﺮﻫﻢ ﻣﻤﻦ ﻳﻄﻮﻝ ﺫﻛﺮﻫﻢ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﻤﻮﺿﻊ، ﻓﻬﺆﻻء ﻛﻠﻬﻢ ﻛﺬاﺑﻮﻥ ﻭﺿﺎﻋﻮﻥ، ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﻗﺒﻮﻝ ﺧﺒﺮﻫﻢ، ﻭﻻ اﻻﺣﺘﺠﺎﺝ ﺑﺤﺪﻳﺜﻬﻢ، ﻭﻳﺠﺐ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﻔﺎﻅ ﺑﻴﺎﻥ ﺃﻣﻮﺭﻫﻢ، ﻭﺇﻇﻬﺎﺭ ﺃﺣﻮاﻟﻬﻢ ﻭﺃﺩﻳﺎﻧﻬﻢ، ﻭﻟﻴﺘﺮﻙ ﺣﺪﻳﺜﻬﻢ، ﻭﻻ ﻳﻜﻮﻥ ﺫﻟﻚ ﻏﻴﺒﺔ،
الأباطيل والمناكير: (3)

جو خطبا و وفضلاء حدیث کی صحت و ضعف کے بارے میں علم نہیں رکھتے ہیں وہ صرف وہی حدیث بیان کریں جس کا صحیح ہونا یقینی ہے اور علم نہ ہونے کی صورت میں محقق عالم دین کی رجوع لازمی کریں بصورت دیگر کبھی بھی ایسی حدیث بیان کریں نہ ہی لکھیں کہ کہیں ہم بھی قیامت کے دن مجرموں کی صف میں کھڑے نہ کر دئے جائیں اور جس نے جان بوجھ کر ضعیف روایت بیان کی اور اس کا تعلق خاص طور پر عقیدہ واحکام کے باب سے ہے تو اس کے لئے جہنم کی وعید شدید ہے اور ایسے شخص کی کوئی گواہی معتبر نہیں جب تک یہ توبہ نہیں کر لیتا ہے اور ایسا شخص کذاب ہے جو سب سے عظیم ہستی سیدنا محمد کریم صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا رہا ہے۔
رہی فضائل ورقائق وزھد وآداب سے تعلق رکھنے والی روایت تو اگر ایسی روایت کا ضعف خفیف ہے اور وہ فضیلت کسی شرعی حکم وپہلو سے ٹکراتی نہیں تو اسے بیان کر سکتے ہیں۔
جب اس کی اصل موجود ہو۔
اسی طرح احکام کی روایت تب بیان کر سکتے ہیں جب اس کے شواہد ومتابعات موجود ہوں ورنہ واضح طور پر گناہ ہے۔
اور جب تک اس ضعیف روایت پر لوگ عمل کریں گے اس کا بوجھ بھی اس بیان کرنے والے پر ہے ہم نے چند مثالیں ذکر کی ہیں کہ کبار صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کثرت سے یا عام طور پر حدیث بیان کرنے سے حد درجہ احتیاط برتتے تھے جبکہ ان سے عمدا غلط بیانی کا صدور ممکن ہی نہیں ہے۔
بلکہ ان کا یہ عمل اس مسئلہ کی نزاکت وحساسیت اور اہمیت کو بیان کرنا اور بتانا تھا۔

فائدة علمية:
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ اﻟﻤﺰﻛﻲ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ اﻟﻨﻮﺭﻱ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﻴﻦ اﻟﺨﻔﺎﻑ(هو ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ بن عمر) ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻌﺒﺎﺱ اﻟﺴﺮاﺝ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ( هو السرخسي)، ﻳﻘﻮﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻣﻬﺪﻱ، ﻳﻘﻮﻝﺇﻥ اﻟﻌﺎﻟﻢ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻌﺮﻑ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻭاﻟﺴﻘﻴﻢ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻻ ﻳﺴﻤﻰ ﻋﺎﻟﻤﺎ ، ﻓﻤﻤﺎ ﻳﻌﺮﻑ ﺑﻪ ﺻﺤﻴﺢ اﻷﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻦ ﺳﻘﻴﻤﻬﺎ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﺘﻌﺮﻳﺎ ﻣﻦ ﺳﺒﻊ ﺧﺼﺎﻝ: ﻓﺎﻷﻭﻝ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺸﻴﺦ اﻟﺬﻱ ﻳﺮﻭﻳﻪ ﻣﺠﺮﻭﺣﺎ.
ﻭاﻟﺜﺎﻧﻲ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻮﻗﻪ ﺷﻴﺦ ﻣﺠﻬﻮﻝ ﻳﺒﻄﻞ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺑﻪ.
ﻭاﻟﺜﺎﻟﺚ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﺮﺳﻼ، ﻓﺈﻥ اﻟﻤﺮﺳﻞ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻻ ﻳﻘﻮﻡ ﺑﻪ اﻟﺤﺠﺔ.
اﻟﺮاﺑﻊ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﻨﻘﻄﻌﺎ، ﻓﺈﻥ اﻟﻤﻨﻘﻄﻊ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺃﺳﻮﺃ ﺣﺎﻻ ﻣﻦ اﻟﻤﺮﺳﻞ.
اﻟﺨﺎﻣﺲ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﻌﻀﻼ، ﻓﺈﻥ اﻟﻤﻌﻀﻞ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺃﺳﻮﺃ ﺣﺎﻻ ﻣﻦ اﻟﻤﻨﻘﻄﻊ.
اﻟﺴﺎﺩﺱ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﺪﻟﺴﺎ، ﻓﺈﻥ اﻟﻤﺪﻟﺲ ﻣﻦ اﻷﺣﺎﺩﻳﺚ ﻳﺤﺘﻤﻞ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻗﺪ ﺩﻟﺲ ﻭﺃﺳﻘﻂ ﻣﻦ ﺇﺳﻨﺎﺩﻩ اﺳﻢ ﺭاﻭ ﺿﻌﻴﻒ، ﻳﺒﻄﻞ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺑﻈﻬﻮﺭﻩ.
اﻟﺴﺎﺑﻊ: ﺃﻥ ﻻ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﻀﻄﺮﺑﺎ، ﻓﺈﻥ اﻟﻤﻀﻄﺮﺏ ﻻ ﻳﺤﺘﺞ ﺑﻪ ﻓﻤﺘﻰ ﻣﺎ ﻭﺟﺪ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻳﻌﺮﻯ ﻋﻦ ﻫﺬﻩ اﻟﺨﺼﺎﻝ ﻓﻬﻮ ﺻﺤﻴﺢ
ﻗﺒﻮﻟﻪ ﻭاﺟﺐ، اﻟﻌﻤﻞ ﺑﻪ ﻻﺯﻡ، ﻭاﻟﺮاﺩ ﻟﻪ ﺁﺛﻢ
الأباطيل والمناكير: (11) صحيح

ائمہ محدثین وعلل نے روایت کی صحت وعدم صحت معلوم کرنے کے لئے جو اصول شرعیہ منہج و تعامل اس امت کو دیا وہ رب العالمین کا خاص تحفہ ہے جس کی قدر ہمیں اچھی طرح کرنی چاہیے ہر داعی پر لازم کے وہ وہی چیز بیان کرے جو وحی کہلاتی ہے( یعنی قرآن کریم اور صحیح احادیث)کہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام کی دعوت کی بنیاد صرف وحی الہی پر تھی۔
مزید اس مسئلہ کے بارے میں دیکھیے صحیح مسلم کا یہ باب

ﺑﺎﺏ ﻓﻲ اﻟﺘﺤﺬﻳﺮ ﻣﻦ اﻟﻜﺬﺏ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ،

اور سنن دارمی ﺑﺎﺏ اﺗﻘﺎء اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻭاﻟﺘﺜﺒﺖ ﻓﻴﻪ، نیز ،صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ کا مقدمہ اور عام کتب اصول حدیث۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ