سوال 6640

ایک خاتون جن کے شوہر کا انتقال کچھ دن قبل ہوا، انکے بیٹے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں، وہ اپنی والدہ کو اپنے ساتھ لیجانا چاہتے جبکہ والدہ ضعیف العمر ہونے کے ساتھ گھر پے اکیلی اور بیمار بھی ہے کیا حالت عدت میں سفر کر سکتی؟
رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔

جواب

پہلی صورت یہ ہے کہ اگر یہ بیٹے خود اتنا عرصہ تک رہ سکتے ہیں تو اپنی ازواج میں سے کسی ایک کو ان کے پاس چھوڑ جائیں تا کہ عدت پوری کر سکیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کسی اور قریبی رشتہ دار کو ان کے پاس چھوڑ دیں جیسے بھائی ،بھتیجے،بھانجے کی فیملی وغیرہ۔
اگر یہ بھی ممکن نہیں ہے تو ان کے ہمسائے ان اماں جان کا خیال رکھیں کہ شریعت اسلامیہ میں ہمسائے کے حقوق میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ان کی دیکھ بھال کی جائے۔
بصورت دیگر بامر مجبوری وہ ساتھ لے جا سکتے ہیں کیونکہ اکیلے رہنا مشکل ہے کیونکہ وہ بیمار اور ضعیف العمر بتائی گئی ہیں اور یہ جان کو خطرے میں ڈالنے والا کام ہے۔ لہذا یہ ماں جی وہاں جا کر عدت گزار سکتی ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

اس صورتِ حال میں تفصیل یوں ہے کہ اگر اس محترمہ کے پاس کوئی محرم، کوئی قریبی رشتہ دار یا ایسا شخص موجود نہیں جو اس کی دیکھ بھال کر سکے، اور وہ حقیقتا تنہا ہو گئی ہو، نہ بیٹی میسر ہو، نہ بہو، نہ کوئی اور سہارا اور واقعی اہلِ خانہ کے پاس کوئی دوسرا قابلِ عمل آپشن موجود نہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں اسے ساتھ لے جانا جائز ہو سکتا ہے۔
البتہ اگر کسی درجے میں آپشن موجود ہوں، مثلاً کچھ رقم دے کر کسی محرم یا قریبی غریب رشتہ دار کو اس بات کا پابند کیا جا سکتا ہو کہ وہ اس کی عدت مکمل کروائے یا اسے اسی کے گھر میں ٹھہرائے، تو یہی صورت اختیار کرنا بہتر اور مقدم ہے۔
اگر یہ سب بھی ممکن نہ ہو، بیٹا باہر سے آ نہیں سکتا، یا کسی نقصان، شدید دشواری یا دیگر حقیقی مسائل کا اندیشہ ہو، تو ایسی ناگزیر حالت میں اسے لے جانا درست ہو گا۔

فضیلۃ العالم حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ