سوال 6897
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ محترم ایک سوال ہے کہ کیا زکوۃ کے پیسوں سے کسی کو جہیز لے کے دیا جا سکتا ہے؟ یعنی ہے تو ویسے لعنت والا کام ہی جہیز لینا دینا لیکن فی زمانہ جو ہے جو ایک چل پڑا ہے کام اس لحاظ سے کوئی بچی کی اپنے گھر میں بیٹھی ہے اور اس کا نظام اتنا نہیں بن پا رہا تو کیا اس کے ساتھ اس طرح کی معاونت کی جا سکتی ہے زکوۃ کے پیسوں سے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلام میں باقاعدہ جہیز اور بارات کا کوئی تصور نہیں ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ چیز اس طرح رچ بس گئی ہے کہ بہت سی بچیاں اسی وجہ سے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں اور طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرتی ہیں۔
ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ بھرپور جہیز اور پوری بارات کا بندوبست کیا جائے، البتہ جزوی طور پر کچھ ضروری چیزیں رخصتی کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خاندان اس قدر پسماندہ ہو کہ وہ بچی کی رخصتی کے بنیادی اور جزوی اخراجات بھی پورے نہیں کر پا رہا، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم انہیں دی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ شرعاً مستحق ہوں۔
البتہ انہیں سمجھا دیا جائے کہ رسومات، بدعات، خرافات اور غیر ضروری خواہشات سے اجتناب کریں، اور خوفِ خدا دل میں رکھتے ہوئے اس جائز مال کو جائز اور ضروری کام میں صرف کریں۔
زکوٰۃ جس کو دی جاتی ہے وہ اس کا حق دار ہوتا ہے؛ شریعت کے مطابق ملکیت اس کی ہو جاتی ہے، اس لیے استعمال کا اختیار بھی اسی کا ہے۔ ہماری مرضی اور کنٹرول اس میں نہیں ہونا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




