سوال 6777
ایک شخص کے پاس نصاب کے برابر رقم تھی اور سال گزر گیا اس نے زکوۃ ادا کرنے سے پہلے اس رقم کو کاروبار میں خرچ کیا وہی رقم منافع سمیت اسے واپس مل گئی، اب وہ زکوٰۃ اسی رقم سے دے گا یا رقم + منافع تمام میں دے گا؟
جواب
جب زکاۃ کا وقت پورا ہو گیا تھا اور سال گزر چکا تھا، تو اسے چاہیے تھا کہ سب سے پہلے زکاۃ ادا کرتا اور بچی ہوئی رقم کو کاروبار میں لگاتا۔ اس کا یہ عمل ایک غلطی تھی، اور اسے چاہیے کہ سچے دل سے اللہ سے توبہ اور استغفار کرے۔
بعد ازاں، اگر جو رقم منافع کی شکل میں حاصل ہوئی ہے، اور اسے لگتا ہے کہ اس پر سال نہیں ہوا، تو وہ نصاب دو بار بنا کر زکاۃ ادا کرے۔ ایک سال گزر جانے کے بعد پہلی رقم کی زکاۃ پہلے ادا کی جا چکی ہوگی، اب اگر مزید ایک سال گزر جائے تو دو سال کی زکاۃ ادا کرے۔
اگر وہ چاہے تو ایک دفعہ کل رقم پر زکاۃ نکال دے اور ایک رجسٹر بنا لے کہ ہر سال اس مہینے میں زکاۃ نکالنی ہے، یا پھر ہر رقم الگ رکھے اور جس پر سال پورا ہو جائے، اس پر زکاۃ دے۔ یہ عام طور پر مشقت والا کام ہے، مگر شرعی طور پر جائز طریقہ یہی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




