سوال (3885)
کیا زکوۃ کی رقم سے غرباء میں راشن تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
جواب
زکاۃ کی نوعیت میں یہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ جس شخص پر زکاۃ ہے، وہ رمضان میں پیکٹ بنا کر راشن تقسیم کر دیتا ہے، پہلی بات یہ ہے کہ علماء اس بات کو عام کریں کہ زکاۃ نکالنے کے لیے رمضان کا مہینہ خاص نہیں ہے، کیونکہ عوام میں تاثر ہے کہ رمضان زکاۃ کا مہینہ ہے، اس تاثر کو درست کرنے کی ضرورت ہے، صاحب نصاب پر جتنی زکاۃ بنتی ہے، کوشش کرے کہ اس جنس سے زکاۃ دے، جس کے پاس کیش ہے، وہ کیش سے زکاۃ دے، جس کے پاس سونا ہے تو سونے سے زکاۃ دے، جس کے پاس جانور ہے تو جانور سے زکاۃ دے، اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ مصارف میں سے کسی ایک مصرف میں زکاۃ دے دے، راشن دینے سے زکاۃ کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، زکاۃ سے بندے کو معاشی و مالی فائدہ ہو، جو بندہ مستحق ہے، اس کو زکاۃ دی جائے تاکہ وہ اپنی ابھی سیٹنگ بنالے تاکہ اس کو معاشی فائدہ ہو، یہ راشن وغیرہ سے نہیں ہوتا ہے۔
فضیلۃ الباحث کامران الٰہی ظہیر حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا مال زکاۃ کو راشن کی صورت میں دیا جاسکتا ہے؟
کیونکہ مال زکاۃ کی شکل تبدیل ہو گئی ہے۔ جبکہ دینے والا اپنی زکاۃ کیش رقم سونا چاندی میں سے دے رہا ہے۔
لیکن وہ زکاۃ وصول کرنے والے کو رقم کی بجائے راشن کی شکل میں دیتا ہے۔
قران و حدیث کو روشنی میں بتائیں
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب ہم زکوٰۃ نکالتے ہیں تو اس مال پر ہمارا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ ہمیں جن مدات اور مصارف میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی میں اسے ادا کرنا چاہیے۔
یہ جو آج کل راشن، راشن، راشن کا فیشن بن گیا ہے، یہ طریقہ کار درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اپنا اختیار استعمال کرنے والی بات آ جاتی ہے۔ البتہ اگر واقعی ایسے گئے گزرے لوگ ہوں جنہیں ہم زکوٰۃ دینا چاہتے ہیں، اور ہمیں اندازہ ہو کہ وہ اپنی اصل ضرورت پوری کرنے کے بجائے پیسہ ضائع کر دیں گے، بچے رو رہے ہوں اور وہ فاقہ مستی میں وقت گزار رہے ہوں، تو ایسی صورت میں ان سے پوچھ کر ان کی ضرورت کی چیز خرید کر دے دی جائے۔ اتنی گنجائش ہو سکتی ہے، چاہے وہ راشن ہو یا کوئی اور ضروری چیز۔
لیکن یہ کہ عمومی طور پر راشن کے پیکٹ بنا کر تقسیم کر دیے جائیں، یہ دراصل اپنا اختیار استعمال کرنا ہے۔ اس کو کلی طور پر درست کہنا صحیح نہیں ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ضرورت کے تحت کیا جا سکتا ہے لیکن ابھی بھیڑ چال نہ چلیں۔
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ



