سوال (6538)
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
زکاة کی رقم اکٹھی نھیں نکال سکتے، کیا سال میں تھوڑی تھوڑی کر کے دے سکتے ہیں؟
اور کیا وہ زکاة شمار ہوگی یا عام صدقہ شمار کیا جائے گا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
زکوٰۃ تو ادا ہو جائے گی، تاہم یہ کوئی مستحسن یا پسندیدہ طریقہ نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ایک وقت متعین ہے، لہٰذا اسے اسی مقررہ وقت پر مکمل طور پر ادا کرنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




