سوال        6746

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے زکوۃ کے پیسوں سے اپنے گھر میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کو اس سے عمرہ کروا سکتا ہے؟رہنمائی فرما دیجیے گا۔ جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس سوال کا مختصر جواب تو یہی ہے کہ جو زکوۃ کے مستحقین ہیں ان کو زکوۃ کے مال سے عمرہ کروایا جا سکتا ہے۔
لیکن زکوۃ نکالنے کا درست طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو بھی زکوۃ کا مستحق ہے زکوۃ کا مال یا پیسے یا جو بھی چیز ہے وہ اس کو دے دیں اور وہ اپنی صوابدید پہ جو اس کو ضرورت ہے وہ چیزیں خرید لیں۔ ہمارے ہاں سمجھا یہ جاتا ہے کہ جو زکوۃ نکالنے والا ہے زکوۃ اصل میں اس کی ملکیت ہوتی ہے، ایسی بات نہیں ہے زکوۃ اصل میں ادا ہی تب ہوتی ہے جب اس کو مستحق زکوۃ کی ملکیت میں دے دیا جائے۔
جب صورت حال یہ ہے تو پھر یہ سوال کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ ہم اس کو عمرہ کروا دیں یا ہم اس کو سحری افطاری لے دیں، يا اس کو کپڑے لے دیں؟!

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ