سوال (6549)
کیا زکوٰۃ سے دینی مدرسہ کے طلبہ کیلئے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں؟
جواب
اگر طلبہ مسافر ہیں، تو ابن سبیل کے زمرے میں آتے ہیں، فقراء و مساکین کے زمرے میں بھی آتے ہیں، اگر مقیم ہیں تو اس زمرے میں آتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
“لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِيۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِى الۡاَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰهُمۡۚ لَا يَسۡــئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَــافًاؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ” [البقرة: 273]
«(یہ صدقات) ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے، ناواقف انھیں سوال سے بچنے کی وجہ سے مال دار سمجھتا ہے، تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے، اور تم خیر میں سے جو خرچ کرو گے سو یقینا اللہ اسے خوب جاننے والاہے»
دینی معاملات ان کے اصحاب صفہ کی طرح زکاۃ سے حل کیے جا سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




