سوال 6730
جو شخص حکمرانوں کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے اور ان کے ظلم پر ان کی معاونت کرتا ہے اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی حوض کوثر پر وہ میرے پاس آئے گا۔ البتہ جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرتا اور ظلم پر معاونت نہیں کرتا بلکہ ان سے جدا رہتا ہے تو اس کا مجھ سے اور میرا اس کے ساتھ تعلق قائم ہے اور وہ حوض کوثر پر بھی میرے پاس پیش کیا جائے گا۔
[جامع ترمذی: 2259]
سیاسی بحث و مباحثے میں اکثر کہا جاتا ہے، پچھلا حکمران بیڑہ غرق کر گیا اور یہ حکمران سہی کر رہے ہیں، اگر معاملہ اسکے برعکس ہو تو کیا رسول ﷺ کی وعید ہم پر بھی لاگو ہو گی؟ اور ظالم حکمران کو ووٹ دینے والا بھی اس وعید میں شامل ہوگا ؟ کیوں کے وه بھی ایک طرح اسکو سپورٹ کرنے والی بات ہی ہوگی؟
جواب
یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اگر کوئی شخص دل کے ارادے کے ساتھ اور سیاسی تعصب کی بنیاد پر ظالموں کی حمایت کرتا ہے تو وہ یقیناً اس وعید میں آتا ہے جس کا ذکر شریعت میں آیا ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص مجبوری، جبر، یا اضطرار کی حالت میں ایسا کرتا ہے، تو اس پر وہی حکم لاگو نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہیں۔
ساتھ ہی یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جمہوری نظام کوئی اسلامی نظام نہیں ہے، اور اسے اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اس جملے کی بھی وضاحت کردیں۔ کیا ایسے شخص کے اعمال کسی کام کے نہیں؟
جواب: بعض سلف صالحین، بالخصوص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں ہے کہ جب انہوں نے قدریہ کے عقائد کے بارے میں سنا تو فرمایا: ان سے کہہ دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔”
اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ اسلام سے خارج ہو گئے، بلکہ مقصود یہ تھا کہ ان کے عقائد اور اعمال قرآن و سنت کے طریقے سے ہٹ چکے ہیں۔ چونکہ میں (عبداللہ بن عمر) قرآن و سنت پر قائم ہوں، اس لیے انہوں نے ایسے لوگوں سے اپنی براءت کا اظہار کیا کہ میرا ان کے طریقے اور منہج سے کوئی تعلق نہیں۔ یعنی وہ گمراہی پر قائم ہیں اور حق سے ہٹے ہوئے ہیں۔
اسی مفہوم کی وضاحت ہمیں نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں بھی ملتی ہے، جہاں آپ ﷺ نے متعدد مقامات پر فرمایا:
“لَیْسَ مِنَّا” یا “لَیْسَ مِنِّی”۔
اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ اسلام سے خارج ہو گیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ: “لیس علی طریقتی”
وہ میرے طریقے، میری سنت اور میرے منہج پر نہیں ہے، یعنی اس کا طرزِ عمل نبی ﷺ کے راستے کے مطابق نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




