سوال        6915

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مشائخ یہ رہنمائی فرمائیے گا ایک شخص ہے اس کے پاس زمین ہے لیکن اس کے پاس زکوۃ دینے کے لیے پیسے موجود نہیں ہیں، اب وہ کس طرح زکوۃ دے سکتا ہے آیا وہ زمین کو سیل کر کے زکوۃ دے گا یا اس کے لیے کوئی رعایت موجود ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
أگر تو زرعی زمین ہے اور اس زمین میں فصل وغیرہ بیچتا ہے تو پھر جب وہ فصل کاشت کرے گا اس فصل پر عشر ہوگا زمین پر زکاۃ نہیں ہوگی۔
البتہ أگر زمین سیل کرنے کے لیے ہے تو پھر جب زمین سیل ہوگی تو وہ زکاۃ أدا کرے گا۔

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ

سائل: جی وہ زمین سیل کرنے کے لیے نہیں ہے، زرعی زمین بھی نہیں ہے وہ ایک فیکٹریکل ایریا جہاں پہ زمین ہے اور وہاں سے اسے کرایا آتا ہے؟
جواب: تو پھر اس کرائے پر زکاۃ ہوگی جب وہ ضروریات زندگی سے باقی بچ کر نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے۔

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ

سائل: اگر وہ جمع نہیں ہوتا تو پھر کیا اس پر زکوۃ ہوگی؟
جواب: اگر تو وہ کرایا اس کے پاس جمع نہیں ہوتا بلکہ لگ جاتا ہے تو پھر زکاۃ نہیں ہے۔
باقی واللّٰہ أعلم بالصواب۔

فضیلۃ العالم عثمان زید حفظہ اللہ