سوال       6718

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
زمزم کے پانی کے بارے میں سوال یہ ہے: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسے پینے کے لیے قبلہ رو ہونا ضروری ہے، اور تین سانسوں میں یا ایک سانس میں پینا ضروری ہے، اور کھڑے ہو کر پینا چاہیے، بیٹھ کر نہیں۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ یہ باتیں درست ہیں یا نہیں، اور زمزم کا پانی پینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بات یہ ہے کہ لوگوں میں بعض باتیں مشہور ہو جاتی ہیں، لیکن دلائل کی دنیا میں ان کی کوئی حقیقت یا وقعت نہیں ہوتی۔ پانی کوئی بھی ہو، بیٹھ کر پینا سنت ہے۔
قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے، اور کسی حدیث میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح کھڑے ہو کر پینا بھی کسی حدیث میں نہیں بتایا گیا کہ صرف زمزم کھڑے ہو کر پیا جائے۔
جہاں تک ایک سانس میں پینے کا تعلق ہے، یہ حدیث کے خلاف ہے۔ کوئی بھی پانی ہو، تین سانس میں پینا سنت سے ثابت ہے۔
البتہ حدیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہوکر پیایا پیتا ہوا دیکھا گیا، اور اس وجہ سے بعض لوگوں نے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ پانی کھڑے ہو کر پینا چاہیے۔ حقیقت میں، جو بھی وہاں موقع پر موجود تھا، وہ بس کھڑے ہو کر پانی پی گیا، اور گھر لے جانے یا گھر میں بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر پینے کا کوئی طریقہ حدیث میں نہیں آیا۔
لہذا اصل بات یہ ہے کہ زمزم بھی دیگر پانی کی طرح سنت کے مطابق تین سانسوں میں، بیٹھ کر پیا جائے، اور قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ