سوال (4893)
اس حدیث کو سامنے رکھ کر کہا گیا ہے کہ زندہ اور مردہ نیک لوگوں کا وسیلہ جائز ہے:
“ﻳﺄﺗﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺯﻣﺎﻥ، ﻓﻴﻐﺰﻭ ﻓﺌﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻓﻴﻜﻢ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ؟ ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻧﻌﻢ، ﻓﻴﻔﺘﺢ ﻟﻬﻢ، ﺛﻢ ﻳﺄﺗﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺯﻣﺎﻥ، ﻓﻴﻐﺰﻭ ﻓﺌﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻴﻘﺎﻝ: ﻫﻞ ﻓﻴﻜﻢ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ؟ ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻧﻌﻢ، ﻓﻴﻔﺘﺢ ﻟﻬﻢ، ﺛﻢ ﻳﺄﺗﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺯﻣﺎﻥ، ﻓﻴﻐﺰﻭ ﻓﺌﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻴﻘﺎﻝ: ﻫﻞ ﻓﻴﻜﻢ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ؟ ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻧﻌﻢ، ﻓﻴﻔﺘﺢ ﻟهم۔”
تو یہ حدیث سے جو بات نکالی گئی وہ کس حد تک ٹھیک ہے؟
جواب
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻋﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺟﺎﺑﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ، ﻳﻘﻮﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ اﻟﺨﺪﺭﻱ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻳﺄﺗﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺯﻣﺎﻥ، ﻓﻴﻐﺰﻭ ﻓﺌﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻓﻴﻜﻢ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ؟ ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻧﻌﻢ، ﻓﻴﻔﺘﺢ ﻟﻬﻢ، ﺛﻢ ﻳﺄﺗﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺯﻣﺎﻥ، ﻓﻴﻐﺰﻭ ﻓﺌﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻴﻘﺎﻝ: ﻫﻞ ﻓﻴﻜﻢ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ؟ ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻧﻌﻢ، ﻓﻴﻔﺘﺢ ﻟﻬﻢ، ﺛﻢ ﻳﺄﺗﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺎﺱ ﺯﻣﺎﻥ، ﻓﻴﻐﺰﻭ ﻓﺌﺎﻡ ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻴﻘﺎﻝ: ﻫﻞ ﻓﻴﻜﻢ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ؟ ﻓﻴﻘﻮﻟﻮﻥ: ﻧﻌﻢ، ﻓﻴﻔﺘﺢ ﻟهم
یه روایت صحیح البخاری:(3594 ) ﺑﺎﺏ ﻋﻼﻣﺎﺕ اﻟﻨﺒﻮﺓ ﻓﻲ اﻹﺳﻼﻡ و(3649) ﺑﺎﺏ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ وسلم، صحیح مسلم:(2532) ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺛﻢ اﻟﺬﻳﻦ ﻳﻠﻮﻧﻬﻢ ﺛﻢ اﻟﺬﻳﻦ ﻳﻠﻮﻧﻬﻢ،سنن سعید بن منصور: (2854) ﺑﺎﺏ ﺟﺎﻣﻊ اﻟﺸﻬﺎﺩﺓ،صحیح ابن حبان: (4768) ﺫﻛﺮ اﺳﺘﺤﺒﺎﺏ اﻻﻧﺘﺼﺎﺭ ﻟﻠﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﺑﺎﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻭاﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ،و(6666)ﺫﻛﺮ اﻹﺧﺒﺎﺭ ﻋﻦ ﻓﺘﺢ اﻟﻠﻪ ﺟﻞ ﻭﻋﻼ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻋﻨﺪ ﻛﻮﻥ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻓﻴﻬﻢ ﺃﻭ اﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ،شرح السنة للبغوي:(3864) ﺑﺎﺏ ﻓﻀﻞ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻢ وغيره میں موجود ہے.
عقيدة أهل السنة في الصحابة لناصر بن علي:1/ 82 ،83 میں اس حدیث کے بعد یوں توضیح کی گئی ہے:
ﻓﻠﻠﻪ ﻣﺎ ﺃﻋﻈﻢ ﻫﺬا اﻟﺘﻜﺮﻳﻢ اﻟﺬﻱ ﺣﻈﻲ ﺑﻪ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ اﻟﺬﻱ
ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻷﺣﺪ ﺳﻮاﻫﻢ ﺑﻌﺪ اﻷﻧﺒﻴﺎء ﻋﻠﻴﻬﻢ اﻟﺼﻼﺓ ﻭاﻟﺴﻼﻡ، ﻓﺎﻟﺤﺪﻳﺚ ﺗﻀﻤﻦ ﻓﻀﻴﻠﺔ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﺗﺎﺑﻌﻴﻬﻢ.
ﻗﺎﻝ اﻹﻣﺎﻡ اﻟﻨﻮﻭﻱ: “ﻭﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻣﻌﺠﺰاﺕ ﻟﺮﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻓﻀﻞ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻭاﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ ﻭﺗﺎﺑﻌﻴﻬﻢ، شرح النووي على صحيح مسلم:16/ 83
اس حدیث میں رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیان کردہ خبر حق کی تصدیق اور عظیم معجزہ کا ذکر ہے۔
اسی طرح صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین وتابعین عظام کی شان وعظمت کا ذکر خیر ہے کہ صحابہ کرام سب سے فائق وبلند مقام پر فائز ہیں اور یہ کہ ان کے برابر یا ان سے زیادہ کوئی عظمت نہیں رکھتا ہے پھر ان کے بعد تابعین عظام اور تبع تابعین کبار ہیں۔
اس حدیث مبارک میں کہیں بھی وسيلة بالذات والأموات کا ذکر نہیں ہے ۔
اس حدیث مبارک میں صرف صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کی شان وعظمت اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والی فتوحات کا ذکر ہے یعنی کرامت صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کا ذکر خیر ہے کہ ان کی موجودگی جس لشکر جہاد وقتال میں ہو گی رب العالمین انہیں فتح سے نوازیں گے پھر صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے کی موجودگی جس لشکر جہاد وقتال میں ہو گی تو ان کی برکت سے رب العالمین فتح سے نوازیں گے۔
رہا اہل بدعت کا اس حدیث سے وسیلہ بالذات والأموات کا عقیدہ اخذ کرنا یا مشکل کشائی کا باطل نظریہ لینا تو یہ صرف ان کے ذہن کی اختراع ہے اس حدیث مبارک میں ایسی کوئی چیز بیان ہی نہیں ہوئی ہے جسے یہ اپنے الفاظ باطلہ میں ذکر کر رہے ہیں۔
اس حدیث کو ائمہ محدثین نے اپنی کتب میں نقل کیا سلف صالحین اسے پڑھتے پڑھاتے آے ہیں مگر کسی نے اس حدیث مبارک سے وہ چیزیں اخذ نہیں کیں جو یہ بدر عقیدہ لوگ کر رہے ہیں ورنہ یہ بتائیں کہ صحابہ کرام تابعین،تبع تابعین اور سلف صالحین ائمہ محدثین سے کس نے یہ معنی تعبیر وتفسیر مراد لی ہے جو یہ اہل بدعت کے رہے ہیں۔
کیا یہ اپنے اس دعوی وگمان ومراد پر اپنا کوئی سلف رکھتے ہیں کیا ان کے موافق خیر القرون وبعد کے سلف صالحین سے کوئی ہے؟؟؟
اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ان کا یہ مطلب ومراد سراسر غلط اور محض سکینہ زوری اور خیر القرون وبعد کے سلف صالحین کی مخالفت کرنا ہے کیونکہ ان سے یہ چیز نہ صراحتا ملتی ہے نہ ہی عملا ملتی ہے۔
ائمہ محدثین کی تبویبات وعناوین کو غور سے دیکھیں، وہ ہمیں کیا بتا اور سکھا رہے ہیں اور یہ اہل بدعت ان کے برعکس کیا بتا اور سکھا رہے ہیں۔
المختصر وسيلة بالذات والأموات قرآن وحدیث اور اجماع صحابہ کرام وتابعین عظام سے ہرگز ثابت نہیں ہے نہ بعد کے سلف صالحین اس کے قائل وفاعل تھے یہ باطل عقیدہ و نظریہ خالص برصغیر کی اختراع ہے جس کی تائید قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے منہج و تعامل سے ہرگز نہیں ہوتی ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




