سوال (6516)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً أُرَاهُ قَالَ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ:” وَيْحَكَ مَا هَذِهِ؟ قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ:” أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا، انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا”

جواب

حسن درجے کی روایت ہے، لیکن اس کا مفہوم اس سے بھی وسیع ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اس روایت کو حسن قرار دینا خطا ہے۔ یہ روایت بلاشبہ ضعیف ہے۔
مبارک بن فضالہ کی تدلیس وعنعنہ
حسن بصری کا عمران بن حصین سے عدم سماع جیسا کہ ائمہ علل ونقاد نے وضاحت کی ہے۔ سند میں حسن بصری کا سماع یہ راوی کی خطاء ہے۔ تفصیل دیکھیے سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني: (1029) یہاں محدث البانی رحمة الله عليه نے بہت عمدہ بحث کر رکھی ہے۔
اور موسوعہ حدیثیہ / مسند أحمد بن حنبل: (20000)33/ 204 ،205
البتہ دین اسلام میں تعویذ گنڈے ،دھاگے وغیرہ لٹکانے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔
اگر یہ سب کفر وشرک پر مبنی ہیں تو یہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ اور حرام ہے اگر اسی عقیدہ وایمان پر فوت ہوا تو انجام خطرناک ہے ۔ بارك الله فيكم وعافاكم
شیخ صاحب حسن کیسے ہے؟

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

شیخ ہم آپ کی طرح تخریج اور تحقیق نہیں کرتے ہیں، بس جس طرح اہل علم کرتے ہیں، وہی نقل کرتے ہیں، ہمارے لیے اتنا کافی ہے، کوئی وضاحت ہوتی ہے، آپ جیسے اہل علم کر دیتے ہیں، باقی مفہوم کا کہا تھا، بعض اہل علم نے حسن کا حکم لگایا ہے، آپ کی اپنی تحقیق ہے، ماشاءاللہ مضبوط ہے، باقی اس کا مفہوم صحیح روایت اور صحیح نھج ہے، اس لیے علماء نے تحسین کی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

جی شیخ صاحب کبھی خارجی قرائن وادلہ سے متن کی تائید ہوتی ہے۔ یہ تو اہل علم جانتے ہیں۔
میں نے خاص روایت پر بات کی اور دو حوالے لکھ دئیے۔ میں تو صرف ایک طالب علم ہی ہوں۔
الله يبارك فيك ويرضيك ويعافيك

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ