سوال 6940
مجیر الدین حنبلی علمی کی کتاب ‘الأنس الجليل بتاريخ القدس والخليل’ میں مروی ہے کہ سلیمان علیہ السلام ایک رات بیت المقدس کا دروازہ کھولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو وہ ان پر مشکل ہو گیا۔ انہوں نے اس کے لیے انسانوں سے مدد طلب کی، مگر وہ ان پر مشکل رہا۔ پھر جنات سے مدد طلب کی، تو وہ بھی ان پر مشکل رہا۔ تو وہ ایک ریت کے ٹیلے پر غمگین بیٹھ گئے، یہ گمان کرتے ہوئے کہ شاید ان کے رب نے انہیں اس (دروازے کو کھولنے) سے روک دیا ہے۔ وہ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک بوڑھے بزرگ (شیخ) آئے جو اپنی لاٹھی کا سہارا لے کر چل رہے تھے اور ان کی عمر بہت زیادہ تھی۔ وہ داود علیہ السلام کی مجلس میں شامل رہنے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کو غمگین دیکھ رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: میں اس دروازے کو کھولنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ مجھ پر مشکل ہو گیا، میں نے انسانوں اور جنات سے مدد طلب کی مگر (اس کے باوجود) نہیں کھلا۔ اس بوڑھے بزرگ نے کہا: کیا میں آپ کو کچھ کلمات نہ سکھاؤں جو آپ کے والد (داود علیہ السلام) اپنی پریشانی کے وقت پڑھا کرتے تھے، جس سے اللہ تعالیٰ ان کی پریشانی دور فرما دیتا تھا؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے۔ انہوں نے کہا: (یہ کلمات ہیں)
“اَللّٰهُمَّ بِنُورِکَ اهْتَدَیْتُ، وَبِفَضْلِکَ اسْتَغْنَیْتُ، وَبِکَ أَصْبَحْتُ وَأَمْسَیْتُ، ذُنُوبِی بَیْنَ یَدَیْکَ، أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ، یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ”
(اے اللہ! تیرے نور سے میں نے ہدایت پائی، تیرے فضل سے میں نے بے نیازی حاصل کی، تیرے ہی سہارے میں صبح اور شام کرتا ہوں، میرے گناہ تیرے سامنے ہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، اے بہت مہربان، اے بہت عطا کرنے والے)۔ جب انہوں نے یہ کلمات پڑھے تو ان کے لیے دروازہ کھل گیا۔
جواب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
یہ قصہ سند کے اعتبار سے ثابت نہیں ہے۔ منکر ہے۔ نیچے دیے گئے لنک کو ملاحظہ فرمائیں:
هل صح أن من دعاء نبي الله داود ( اللهُمَّ بِنُورِكَ اهْتَدَيْتُ، وَبِفَضْلِكَ اسْتَغْنَيْتُ)؟ – الإسلام سؤال وجواب https://share.google/A77gpB8UJDnkOyGKO
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ



