سوال    6641

عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : [ أَلَا إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ يَوْمِيْ هٰذَا كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَ إِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِيْنُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِيْنِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَ أَمَرَتْهُمْ أَنْ يُّشْرِكُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعمیہا، باب الصفات التي یعرف بھا… : ۲۸۶۵ ]

’’سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے میرے آج کے دن میں جو کچھ سکھایا ہے تمھیں اس میں سے چند وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم واقف نہیں ہو۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ’’حنفاء‘‘ (ایک اللہ کے ہو جانے والے) پیدا کیا ہے اور ہوا یہ کہ ان کے پاس شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو ان کے دین سے پھیر دیا اور ان کے لیے وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھوں نے ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔‘‘

كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ

ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ علماء کرام اس قطعہ کا مفہوم سمجھا دیں.

جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ

ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو دیا وہ اس کے لیے حلال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان کو جائز طریقے سے مال ملے خواہ وہ وراثت کے ذریعے ہو یا تجارت کے ذریعے، مزدوری کے ذریعے ہو یا تحفہ کوئی دے دے یا ہبہ وغیرہ مل جائے تو یہ کوئی بھی صورت جو جائز صورت ہے اس طریقے سے جس کو مال ملے گا یہ وہ مراد ہے۔ واللہ اعلم۔

فضیلۃ العالم حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ