سوال 6801
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ تھے، پھر ایک گول دائرے میں ان کو ٹھہرنے کا حکم دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے پھر ایک زوردار آواز سنی تو معاذ رضی اللہ تعالی عنہ جانا چاہتے تھے لیکن اطاعت رسول کی وجہ سے اسی جگہ رکے رہے کیا یہ صحیح ہے؟
جواب
وعلیکم السلام! یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس کے صحت اور ضعف میں اختلاف ہے۔ البتہ امام ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔
رواه الترمذي في “السنن” (2861)، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: “صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَتَّى خَرَجَ بِهِ إِلَى بَطْحَاءِ مَكَّةَ، فَأَجْلَسَهُ، ثُمَّ خَطَّ عَلَيْهِ خَطَّا، ثُمَّ قَالَ: «لَا تَبْرَحَنَّ خَطَّكَ؛ فَإِنَّهُ سَيَنْتَهِي إِلَيْكَ رِجَالٌ، فَلَا تُكَلِّمْهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يُكَلِّمُونَكَ …» الحديث.
وقال: “هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ”.
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




