سوال

میرے ایک دوست کی کمپنی کو بینک کی تعمیر وغیرہ کا کام ملا ہے۔ وہ مجھے بینک کی تزیین و آرائش کا کچھ کام دینا چاہ رہے ہیں۔ میرا بینک سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ بینک ان کی کمپنی کو پیسے دے گا اور وہ آگے مجھے دیں گے۔ چونکہ یہ کام بینک کا ہے، تو کیا میرے لیے اس میں حصہ لینا جائز ہے؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

بینکاری نظام سود پر قائم ہے۔ سود لینے اور دینے والوں ہی نہیں، بلکہ سود کے کاتب اور اس کے گواہوں تک پر لعنت کی گئی ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے:

“لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ”. [صحیح مسلم: 1598]

’’رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا: (گناہ میں) یہ سب برابر ہیں‘‘۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سود کے نظام میں کسی بھی طرح سے تعاون کرنا ناجائز ہے۔

چونکہ آپ کو واضح طور پر معلوم ہے کہ یہ کام بینک کا ہے، اور بینکاری نظام سود پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے اس کی عمارت، مرمت، تزیین و آرائش، سیکیورٹی، یا ایسے کام جن سے وہ اپنے سودی نظام کو مزید مضبوط کریں ان میں تعاون کرنا شرعاً درست نہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌”. [المائدہ: 2]

’’گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو‘‘۔

اگرچہ آپ کو ادائیگی آپ کے دوست کی کمپنی کرے گی، لیکن حقیقت میں کام سودی ادارے (بینک) کے لیے ہو رہا ہے۔

اگر آپ کو علم نہ ہوتا تو آپ مکلف نہیں تھے، لیکن اب چونکہ آپ کو پتہ چل چکا ہے، اس لیے اس سے بچنا لازم ہے۔

جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسکے لیے ضرور راستہ بناتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

“وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ”. [صحیح البخاری: 1469]

’’جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے سوال کرنے سے محفوظ ہی رکھتا ہے۔ اور جو شخص بے نیازی برتتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بےنیاز بنا دیتا ہے‘‘۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ