سوال

ایک عورت نکاح کے وقت شرط لگاتی ہے، نکاح نامے پر لکھواتی ہے کہ اسکا شوہر دوسرا نکاح نہیں کرے گا، تو کیا یہ شرط لگائی جا سکتی ہے، علمائے کرام رہنمائی فرمائیں؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

نکاح کے وقت عورت کا یہ شرط لگانا کہ شوہر دوسرا نکاح نہیں کرے گا، اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے،  اکثر کے نزدیک ایسا کرنا شرعاً درست نہیں۔ کیونکہ دوسرا نکاح کرنا مرد کے لیے شرعاً مباح اور جائز عمل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ [النساء: 3]

عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے۔

جب شریعت نے کسی عمل کو جائز اور مباح قرار دیا ہو تو شریعت کے دائرہ کار کو محدود کرنے اور شوہر کے اس جائز حق کو سلب کرنے والی شرط درست نہیں۔ اگر نکاح میں ایسی شرط لکھ بھی دی جائے تو نکاح درست ہوگا، شوہر پر اس شرط کی وجہ سے دوسرا نکاح حرام نہیں ہوگا۔

جبکہ بعض اہلِ علم کی یہ رائے ہے کہ ایسی  شرط خلاف شرع نہیں  اور  تقاضائے عقد کے خلاف بھی نہیں، کیونکہ دوسری شادی کرنا ایک مباح عمل ہے، اور  کسی مباح کام کے کرنے یا نہ کرنے کی  شرط لگانا جائز اور درست ہے۔ ارشادِ نبوی ہے:

” ‌أَحَقُّ ‌الشُّرُوطِ ‌أَنْ ‌تُوفُوا ‌بِهِ ‌مَا ‌اسْتَحْلَلْتُمْ ‌بِهِ ‌الْفُرُوجَ”. [صحيح البخاري: 2721، صحيح مسلم: 1418]

’جن شرطوں کے ذریعے شرمگاہیں حلال کی ہوں وہ سب سے زیادہ حق رکھتی ہیں کہ انہیں پورا کیا جائے‘۔

اہلِ علم نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے جائز اور مباح  شرطیں لگانے کو جائز قرار دیا ہے۔ مشہور حنبلی فقیہ علامہ مرداوی  نے شروط کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور درست شرائط کی مثال اور حکم بیان کرتے ہوئے رقمطرار ہیں:

«مِثْلَ اشْتِراطِ زِيادَةٍ في المَهْرِ أو نَقْدٍ مُعَيَّنٍ، أو لا يُخْرِجُها مِن دارِها أو بَلَدِها، أو أنْ لا يتَزَوَّجَ عليها ولا يتَسَرَّى. فهذا صحيحٌ لازِمٌ، إنْ وفَّى به، وإلَّا فلها الفَسْخُ. هذا المذهبُ بلا رَيبٍ، وعليه الأصحابُ».[الإنصاف20/ 390 ت التركي]

’مہر میں اضافے کی شرط لگانا  یا گھر اور شہر سے باہر نہ جانے کی شرط لگانا، یا یہ شرط رکھنا کہ خاوند اس کے بعد کوئی بیوی اور لونڈی نہیں رکھے گا، تو یہ تمام شرائط درست ہیں جن کی پابندی کرنا لازمی ہے اور اگر خاوند پابندی نہ کرے تو عورت کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہو گا‘۔

لجنۃ العلماء للإفتاء کے اکثر مفتیانِ کرام نے اسی آخری رائے کو اختیار کیا ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ