دنیاوی حاجات سے پہلے اللہ کی رضا
اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر ایمان اس بات کا مقتضی ہے کہ ہر طرح کی حاجت کا سوال اللہ تعالیٰ سے ہی کیا جائے، لیکن اس کے باوجود کبھی مؤمن اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اپنی دنیاوی حاجات نہیں مانگتا، باوجود اس کے کہ اسے ان حاجات کا پورا ہونا شدت سے مطلوب ہوتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان کی کمزوری اور دعا کے طریقے میں خلل کی وجہ سے نہیں بلکہ مختلف ایمانی معارف کے باعث ہوتا ہے، مؤمن جب دعا میں اپنی دنیاوی حاجت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش نہیں کرتا یا اسے مؤخر کر دیتا ہے تو اس کے پیش نظر کئی باتیں ہو سکتی ہیں۔
کبھی تو مؤمن اس لیے دنیاوی حاجت نہیں مانگتا کہ دنیاوی حاجت میں اس کا اپنا حصہ و حظ ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ سے عبادت پر مدد مانگنا، قربت کا سوال کرنا، گناہوں سے بخشش مانگنا وغیرہ یہ اللہ تعالی کو مطلوب اور پسند ہے، لھذا جو اللہ کو مطلوب اور محبوب ہے اسے وہ اپنی دنیاوی حاجت پر ترجیح دیتا ہے۔
کبھی اس لیے ایسا کرتا ہے کہ عبادت، جنت کا حصول، اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا انسان کا اصل ہدف ہے، لھذا وہ اصل ہدف کو ثانوی چیزوں پر ترجیح دیتا ہے۔
کبھی مؤمن اس لیے ایسا کرتا ہے کہ دنیا اسے حقیر سی معلوم ہوتی ہے، وہ سوچتا ہے اتنے بڑے بادشاہ اور ہر چیز کے مالک سے میں نے بھلا اسی کا سوال کرنا ہے، اس سے تو اس سے عظیم چیزیں مانگنی چاہئیں، لھذا وہ دنیاوی حاجات کو مؤخر کر کے آخرت میں مطلوب دیگر چیزوں کا سوال کرتا ہے۔
کبھی اسے لگتا ہے کہ میں کیسا بے ادب غلام ہوں کہ دعا میں سستی کرتا ہوں، جب مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھا ہی لیے ہیں تو اس سے آغاز میں ہی اپنی دنیا مانگنے لگوں، اور جو اس کی بخشش و رضا و قربت ہے اس کا سوال مؤخر کر دوں۔۔۔۔یہ کیسی بے ادبی ہے، لھذا وہ بخشش کے سوال ہی میں ساری دعا لگا دیتا ہے۔
کبھی سوچتا ہے کہ میرے گناہ بہت زیادہ ہیں، لھذا مجھے سب سے پہلے اسی کی بخشش کا سوال کرنا ہے، یوں اس کی دعا اسی میں گزر جاتی ہے یا اپنی حاجات کو مؤخر کر دیتا ہے۔
غرض اپنی دنیاوی حاجات مانگنے کو مؤخر کرنے کے مختلف اسباب ہوتے ہیں، جو دل میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اللہ تعالیٰ سے حیاء پر دلالت کرتے ہیں۔
• جو دنیاوی چیزیں آخرت کے کاموں میں عین مطلوب ہوں وہ اس سے خارج ہیں، نیز اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دنیا کی حاجات مانگی نہ جائیں۔
موھب الرحیم




