ایک اور عالم دین چل بسے

مولانا سعید مجتبیٰ سعیدی۔۔ حفظہ اللہ سے رحمہ اللہ ہوگئے۔ یہ علما لوگ بھی مگر اس قبیلے سے ہوتے ہیں جو جاکے بھی نہیں جاتے، یہ اپنے پیچھے اچھی یادیں، اور اپنی زندہ تصانیف یعنی ہزاروں شاگرد اور اپنی اولادیں چھوڑ جاتے ہیں، عام لوگوں کے برعکس ان کی اولادیں ان کی کتابیں ہوتی ہیں، جو تا دیر لوگوں کے مطالعے اور مشاہدے میں رہ کر خلق خدا کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یہ قبر میں آسودہ ہوتے ہیں مگر ان کے لکھے لفظ دلوں میں جگمگاتے رہتے ہیں، لوگ ان کی کتابوں سے باتیں کرتے ہیں،ان کے لکھے لفظ اندھیرے میں ڈوبے لوگوں کے لیے روشنی اور محتاجوں کے لیے مدد بن جاتےہیں، ان کا نام حدیث سے جڑ جاتا ہے، لوگ نبی کی حدیث پڑھتے ہیں اور پھر ان کی کتاب سے اس کا مطلب اور مفہوم سمجھتے ہیں، یہ قبر میں ہوکر بھی اپنی تصانیف سے مردہ دلوں کو زندگی دیتے ہیں، ان کے ضمیر چمکاتے اور ان کے دلوں کو سکون آشنا کرتے ہیں۔ ایسی زندگی کو موت کوئی گزند نہیں پہنچا سکتی۔
پچھلے دنوں،ایک شب میں نے ابوالکلام آزاد کی غبار خاطر ڈاؤنلوڈ کی اور پڑھنے لگا، ابوالکلام اپنی چائے، اپنے گلمرگ، لاہور سے جاتے ہوئے ہونے والے انفلوئنزا اور اپنی سیاسی اور دل کی باتیں کہنے لگے، کہاں پچھلی صدی میں ان کے دل میں آئے خیالات اور کہاں آج کے عہد میں جیتا میں، مگر وہ موجود تھے، بات کہتے تھے، دل کا حال کہتے تھے، میں پڑھتا تھا اور سنتا تھا،
تو یہ علما ہوتے ہیں، یہ اہل علم اور اہل قلم ہوتے ہیں، موت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، خدا نے ان کو آئندہ عہدوں میں سانس لینے کی صلاحیت اور طاقت بخش رکھی ہوتی ہے۔ یہ جیتے ہیں، ہر عہد میں اپنی بات کہتے ہیں، رہنمائی کرتے اور اجر سمیٹتے ہیں۔
اسی قبیلے کا ایک اور فرزند چل بسا، ہاں یہ ضرور ہے کہ مزید استفادے اور مزید نیکیوں کا در بند ہوگیا مگر جاری نیکیاں جاری رہیں گی،کہہ دیا گیا اور لکھ دیا گیا محفوظ رہے گا۔ اسے حیات جاوداں کہتے ہیں، اسے قابل رشک زندگی اور قابل رشک موت کہتے ہیں۔ اللہ قبیلے کے ہر فرد اور ہر فرزند پر رحم فرمائے۔

#یوسف_سراج

استاذ العلماء، فضیلۃ الشیخ پروفیسر مفتی سعید مجتبی سعیدی رحمہ اللہ، کی وفات کی خبر واٹس ایپ گروپ میں پڑھی تو یقین نہ آیا، بار بار غور سے پڑھا، کہ شائد مجھے پڑھنے میں غلطی لگ رہی ہے، پھر دوسرے گروپوں میں بھی دیکھا تو یہی خبر مختلف الفاظ کے ساتھ گردش کر رہی تھی، یقینا یہ ایسی خبر تھی کہ شیخ رحمہ اللہ کے محبین و متوسلین میں سے مجھ سمیت کسی نے بھی پہلی نظر میں اس خبر پر یقین نہیں کیا ہوگا۔ شیخ رحمہ اللہ یقینا ہر اس خوبی اور وصف سے متصف تھے جو کسی عالم ومدرس اور مبلغ و مربی میں ہونی چاہیے،
شیخ رحمہ اللہ نے جزرفع الیدین للبخاری کے ترجمہ و شرح کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار تحریری طور پر بھی مجھے بھیجا اور کال کر کے مجھے ڈھیروں دعائیں بھی دیں اور مبارک باد بھی۔ ساتھ میں شیخ نے وعدہ فرمایا کہ جون کے مہینے میں کوشش کروں گا کہ تمھارے پاس آؤں۔ اور ایک سرپرائز بھی تمھارے لیے ہوگا، پھر خود ہی فرمایا کہ سرپرائز تو غیر اخلاقی عمل ہے، واضح ہی کردیتا ہوں کہ میں تمھارے لیے اپنی سند اجازہ لے کر آوں گا،۔۔۔
لیکن سب ختم ہوگیا،۔۔۔ اللہ تعالی شیخ محترم کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے اور انھیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

(امان اللہ عاصم)

یہ بھی پڑھیں: پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی رحمہ اللہ