سوال

ایک سلفی العقیدہ مقروض جو زکوٰۃ کے مستحق بھی تھے، وہ وفات پا گئے ہیں، تو کیا ان کے قرض کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔

قرض تقريبا 23 لاکھ روپے ہے اور ان کے اہل و عیال کے پاس اتنی رقم نہیں بلکہ وہ خود بھی کرایہ کے گھر پر رہتے ہیں اور آمدنی بھی اتنی خاص نہیں کہ جس سے قرض کی ادائیگی ہوجائے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

سوال میں مذکور شخص اپنی زندگی میں زکوٰۃ کا مستحق بھی تھا اور ساتھ ہی بھاری قرض میں بھی مبتلا تھا۔ اب چونکہ ان کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کے ورثاء کے پاس بھی قرض ادا کرنے کی استطاعت نہیں، اس لیے ان کے ذمہ جو قرض ہے، اسے زکوٰۃ سے ادا کرنا جائز ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں:

“اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡعٰمِلِيۡنَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّـفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ وَفِى الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِيۡنَ وَفِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ”. [التوبة: 60]

صدقات (زکوٰۃ) تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

ان آٹھ مصارف میں ایک مد “الغارمین” (قرض دار) بھی ہے۔

غارمین میں وہ شخص بھی شامل ہے جو قرض کے بوجھ تلے دبا ہو اور خود اسے ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔

لہٰذا اگر کوئی شخص مقروض ہو کر فوت ہوجائے اور ورثاء یا ترکہ میں ادائیگی کی گنجائش نہ ہو تو اس کا قرض زکوٰۃ کے مال سے ادا کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ حق مستحقِ زکوٰۃ (غارم) کی طرف سے ادا کیا جا رہا ہے۔

چونکہ مذکورہ  شخص قرض دار تھے اور اس کی ادائیگی سے عاجز بھی تھے، ان کا قرض زکوٰۃ سے ادا کرنا بالکل درست ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ