گناہ کے بعد وضو
اگر بندے سے گناہ سرزد ہو جائے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وضو کر لے۔ کیوں کہ وضو گناہوں کی معافی کا باعث ہوتا ہے۔
⇚سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تخرج من تَحت أَظْفَاره».
’’جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح وضو کرے تو اس کی خطائیں اس کے جسم سے نکل جاتی ہیں،حتیٰ کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتی ہیں۔‘‘
(صحیح مسلم : ٢٤٥)
⇚سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
«إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مع الماء أو مع آخر قطر الماء فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاء. حَتَّى يَخْرُجَ نقيا من الذنوب».
’’جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو آنکھوں کے دیکھنے سے ہونے والی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے، تو اس کے ہاتھوں سے جو خطائیں سرزد ہوتی ہیں، وہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے جو خطائیں سرزد ہوتی ہیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے صاف ہو جاتا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم : ٢٤٤)
⇚شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (٧٢٨هـ) فرماتے ہیں :
وَيُسْتَحَبُّ الْوُضُوءُ عَقِيبَ الذَّنْبِ.
’’گناہ کے بعد وضو کرنا مستحب ہے۔‘‘
(الفتاوى الكبرى : ٥/ ٣٠٦)
⇚حافظ نووی رحمہ اللہ (٦٧٦هـ) فرماتے ہیں :
أَنَّ الصَّحِيحَ أَوْ الصَّوَابَ اسْتِحْبَابُ الْوُضُوءِ الشَّرْعِيِّ مِنْ الْكَلَامِ الْقَبِيحِ كَالْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ وَالْكَذِبِ وَالْقَذْفِ وَقَوْلِ الزُّورِ وَالْفُحْشِ وَأَشْبَاهِهَا وَلَا خِلَافَ فِي اسْتِحْبَابِهِ إذَا ضَحِكَ فِي الصلاة ولا يجب شئ مِنْ ذَلِكَ.
’’صحیح اور درست بات یہ ہے کہ قبیح کلام جیسے غیبت، چغلی، جھوٹ، بہتان، غلط بیانی، فحش گوئی اور اس جیسی چیزوں کے بعد وضو کرنا مستحب ہے اور اس کا مقصد گناہوں کی معافی ہے جیسا کہ اس بارے احادیث ثابت ہیں۔ البتہ ان میں سے کسی چیز پر بھی وضو کرنا واجب نہیں ہوتا۔‘‘
(المجموع شرح المهذب : ٢/ ٦٢)
…حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ
یہ بھی پڑھیں:جب لوگوں کو ملا دیا جائے گا