سوال
زکوٰۃ کے متعلق ایک سوال تھا کہ اگر کسی شخص نے کافی ٹائم سے زکوٰۃ ادا نہیں کی ہے اور اب وہ ادا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ چھ سات سال یا آٹھ دس سال کی زکوۃ ہو، تو جب کیلکولیٹ کریں گے تو ہر سال جیسے گزشتہ جتنے سال میں جو جو سونے کا ریٹ رہا ہے اس کے مطابق ہر سال کے حساب سے کیلکولیٹ کرکے ادا کریں گے یا پھر ابھی جو موجودہ حساب ہے اسی کو گزشتہ سالوں کی تعداد سے ملٹی پلائی کرکے دیں گے؟ براہِ مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیے گا!
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
زکوۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ جہاں بھی نماز کا حکم ہوا ہے، عموما ساتھ ہی اللہ تعالی نے زکوۃ کا حکم بھی دیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
“خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ”. [سورۃ التوبہ:103]
’آپ ان کے اموال میں سے زکوٰۃ وصول کیجیے، آپ اس کے باعث انہیں پاک اور صاف فرما دیں اور ان کے لیے دعا کریں‘۔
اور زکوۃ ایسا اہم فریضہ ہےکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے زکوۃ نہ دینے والوں کے خلاف جنگ کی اور فرمایا:
“واللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَن فَرَّقَ بيْنَ الصَّلَاةِ والزَّكَاةِ، فإنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ المَالِ، واللَّهِ لو مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إلى رَسولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ علَى مَنْعِهَا”. [صحیح البخاری:1399]
’اللہ کی قسم جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، میں اس سے جنگ کروں گا، کیونکہ مال میں زکاۃ فرض ہے، اللہ کی قسم اگر بکری کا ایک بچہ بھی، جو یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بطور زکاۃ ادا کیا کرتے تھے، اس کو روک لیں گے، تو میں ان سے جنگ جاری رکھوں گا‘۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام مانعین زکاۃ کے ساتھ جنگ کی، کیونکہ اسلام میں زکاۃ کی ادائیگی فرض ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
“دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟، قُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ! قَالَ: هُوَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ”. [سنن أبی داؤد: 1565]
رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے، آپ نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں چاندی کی موٹی موٹی انگوٹھیاں ہیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا، میں نے انہیں آپ ﷺ کی خاطر زینت کے لیے پہنا ہے۔! آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے جہنم میں لے جانے کے لیے یہی کافی ہے “۔
صورت مسئولہ میں جس شخص نے پچھلے کئی سال سے زکوۃ ادا نہیں کی، اس نے اس اہم فریضے کو ادا کرنے میں سخت سستی اور کوتاہی کی ہے، جس پر اسے اللہ کے حضور توبہ کرنا لازمی ہے۔
جہاں تک زکاۃ کی ادائیگی کا معاملہ ہے تو اگر کسی شخص پر پچھلے کئی سالوں کی زکوٰۃ واجب ہو اور اب وہ ادا کرنا چاہتا ہو تو ہر سال کی زکوٰۃ اس سال کے حساب سے ہی نکالی جائے گی۔ یعنی جس سال زکوٰۃ واجب ہوئی، اس سال سونے/چاندی کا جو ریٹ تھا، اسی کے مطابق اس سال کی زکوٰۃ شمار ہوگی، اس سے پچھلے سال کی زکوٰۃ اس سال کے ریٹ کے مطابق نکالی جائے گی، اسی طرح ہر سال کا الگ الگ حساب ہوگا اور موجودہ سال کی زکوٰۃ موجودہ ریٹ کے مطابق ادا کی جائے گی۔
یعنی پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ایک ہی وقت کے ریٹ مطابق نہیں نکالی جائے گی، بلکہ اس چیز کے ہر سال کے ریٹ کے مطابق ہو گی۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ
فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ



