انسان کو اللہ کے مکر سے ڈرنا چاہیے
حدیث الہی: میری عزت کی قسم میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا۔ اگر مجھ سے دنیا میں بے خوف ہو جائے تو آخرت میں اسے خوف میں مبتلا کروں گا، اور اگر دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے گا تو آخرت میں اسے بے خوف رکھوں گا۔
[رواہ ابن المبارك في الزهد(١٥٧) وصححه الألباني في السلسلة الصحيحة(٢٦٦٦)]
اس میں اللہ تعالی سے بے خوف ہوجانے کی مذمت اور اس سے ڈرتے رہنے کی ترغیب ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
أَلَاۤ إِنَّ أَوۡلِیَاۤءَ ٱللَّهِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡهِمۡ وَلَا هُمۡ یَحۡزَنُونَ○ ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ یَتَّقُونَ○ [یونس: 62_63]
کہ اللہ کے دوستوں کو کوئی خوف اور کوئی غم نہیں ہوگا۔ وہ جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔
تحریر کا مقصد اللہ سے خوف کا ایک خاص پہلو ہے۔ جو اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان اللہ کے مکر سے ڈرے۔
اللہ کا مکر کیا ہے؟
یہ کہ اللہ انسان کی حرکتوں کی وجہ سے اسے وہاں سے پکڑ لے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔ اور اس میں اللہ تعالی بالکل حق بجانب ہوتے ہیں اور انسان ہی اس مکر کا مستحق ہوتا ہے۔ کیونکہ غیر مستحق کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا عدل کے خلاف ہے۔ اور عدل کے خلاف جانا نقص ہے جو کہ اللہ کی صفات میں جاری نہیں۔
اللہ کے مکر سے بے خوف ہوجانا ایک بہت ہی برا اور قبیح فعل ہے کہ انسان اس بات سے اپنے آپ کو آزاد محسوس کرے کہ اللہ تعالی مجھ پر شاید گرفت نہیں کر سکتا۔ یہ سیدھی سیدھی بے عقلی اور حماقت ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔ جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ شرک کرے اور اللہ کے مکر سے بے خوف ہوجائے۔
[ مصنف بعد الرزاق ١٠ / ٢٦٠]
اس امن اور بے خوفی کے اسباب اگر انسان دیکھے تو ان سب سے پہلے جہل، کمزور ایمان، گناہوں کی وجہ سے دل کی زنگ آلودگی، اللہ کی نعمتوں یا اپنی کسی نیکی پر غرور اور سب سے بڑھ کر توحید کی کمزوری سامنے آتے ہیں۔
اللہ تعالی سورہ اعراف میں انبیاء کے قصص ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ○ أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ○ أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ○ [الاعراف: 97_99]
کہ کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آ پڑے جس وقت وہ سوتے ہوں۔ اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ پڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔ کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔
اس سب بات سے ایک بات تو بڑے اچھے انداز سے واضح ہو جاتی ہے کہ جس طرح ایک مسلمان اللہ سے اچھی امید رکھتا ہے، اسی طرح اسے چاہیے کہ اس کے عذاب اور مکر سے ڈرے بھی سہی۔ کیونکہ اہل السنہ کے ہاں ایک مسلمان کی مثال پرندے کی سی ہے جس کا ایک پر خوف ہے اور دوسرا امید ہے۔
اس میں سب کے لیے تذکیر ہے خاصکر کیوٹ اسلام والوں کے لیے جنہیں علماء کا اللہ سے ڈرانا برا لگتا ہے۔
حافظ نصر اللہ جاويد
باستفادة من درس الشيخ صالح السندي حفظه الله




