اسلامی علوم اور مصنوعی ذہانت (AI) روایت اور جدت کا سنگم
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ علم و تحقیق کی دنیا بھی اس تبدیلی سے دور نہیں ہے۔ جہاں اسلامی علوم کی اپنی ایک مستند اور قدیم روایت ہے، وہیں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے اس میدان میں تحقیق، تدریس اور اشاعت کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک طالبِ علم یا استادِ دین کے لیے AI کا استعمال ضروری ہے؟ اور اسے کس طرح ایک نعمت بنایا جا سکتا ہے؟ آئیے اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
علمی تحقیق میں ایک نیا انقلاب
مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کو نہ صرف تیز کر دیا ہے بلکہ پیچیدہ تحقیقی امور کو بھی سہل بنا دیا ہے۔ اب گھنٹوں کا کام منٹوں میں ممکن ہے۔ چاہے وہ علمی مقالات کا خلاصہ تیار کرنا ہو یا مختلف زبانوں میں موجود مواد کا ترجمہ، AI ٹولز (جیسے,Gemini, Claude, Comet Perplexity , NotebookLM, ChatGPT) ایک مددگار ساتھی کی طرح کام کرتے ہیں۔جدید دور میں ابلاغ کے طریقے بدل چکے ہیں۔ اب صرف متن کافی نہیں، بلکہ وڈیوز (Visual Content) بھی اہمیت رکھتا ہے۔ علمی و فکری اورتحقیقی مقالات یا کی پوائنٹس پر مشتمل پریزنٹیشن کے لیے امیج جنریشن ٹولز اور نوٹ بک ایل ایم کا استعمال کر کے ہم اسلامی تعلیمات کو زیادہ مؤثر اور جدید انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔جہاں AI کے بے شمار فائدے ہیں، وہاں ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی محض ایک ذریعہ ہےیہ انسانی عقل اور مستند ذرائع کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
AI سے حاصل ہونے والی معلومات کو ہمیشہ مستند اسلامی مصادر (قرآن، حدیث اور معتبر کتب) سے پرکھنا ضروری ہے۔
ٹیکنالوجی کو دینی اصولوں کے تابع رکھ کر ہی ہم غلط فہمیوں اور علمی نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔
قدیم اور جدید کا حسین امتزاج
ہمارا مقصد قدیم اسلامی تعلیمات کو چھوڑنا نہیں، بلکہ انہیں جدید طریقوں کے ساتھ یکجا کرنا ہے۔ جب ایک محقق اپنی دینی بصیرت کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ملاتا ہے، تو اس کے کام کی تاثیر اور معیار میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ امتزاج ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق دین کی تبلیغ اور تدریس کر سکیں۔
مصنوعی ذہانت سے ڈرنے یا اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اسے سیکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اسے احتیاط اور اخلاقی حدود میں رہ کر استعمال کریں، تو یہ اسلامی علوم کی ترویج و اشاعت میں ہمارا بہترین معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ابرار شفیق
یہ بھی پڑھیں:آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو سیکھنا اور استعمال کرنا کیوں ضروری ہے؟




