سوال          (54)

مشائخ رہنمائی فرمائیں کہ کیا جمعہ کے دن زوال کا اعتبار کیا جائے گا؟

جواب

جمعے کے دن زوال ہوتا ہے مگر اعتبار نہیں ہوتا ہے، جیسے بیت اللہ میں بارہ مہینے اور چوبیس گھنٹے اعتبار نہیں ہوتا ہے، اسی طرح دیگر مساجد میں صرف جمعے کے دن اعتبار نہیں ہوگا۔

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى”.[صحيح البخاری: 883]

جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔

اس حدیث سے یہ مسئلہ واضح ہوتا ہے کہ نوافل پڑھے جا سکتے ہیں  کیونکہ حدیث میں ہے کہ جتنی ہوسکے نفل نماز پڑھ لے، ہمارے بعض اسلاف سے 34 رکعات تک ثابت ہے، اس سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ وہ نوافل پڑھتے رہتے تھے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

فضیلۃ الباحث داؤد اسماعیل حفظہ اللہ

جمعہ والے دن زوال نہیں ہوتا اس بات کی کوئی دلیل نہیں ، البتہ جمعہ والے دن جب مسجد میں داخل ہو تو جتنی چاہیں رکعات پڑھ سکتے۔ [بخاری: 883]
اس کے لیے کوئی ممنوع وقت نہیں ہے۔
اگر مسجد میں داخل ہی اس وقت ہوں کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو صرف دو مختصر رکعات پڑھ کر خطبہ سننا چاہیے۔[بخاری: 931]
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: ویسے زوال کا وقت کون سا ہوتا ہے؟
جواب: طلوع و غروب آفتاب کی طرح زوال کا وقت بھی ہر روز بدلتا رہتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

سوال: کیا جمعہ کے دن زوال کا وقت ہوتا ہے؟ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: جی ہاں، زوال کا مطلب یہ ہے کہ جب سورج سیدھا سر پر آنے کے بعد ڈھلنا اور جھکنا شروع ہو جائے تو اس کیفیت کو زوال کہا جاتا ہے۔ عام دنوں میں جب سورج عین سر پر ہو یا زوال کی کیفیت میں ہو تو اس وقت نماز سے رکا جاتا ہے، یہ قاعدہ روزانہ پایا جاتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ دلائل اور فہمِ سلف کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جمعۃ المبارک کے دن زوال کے وقت اس ممانعت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، یعنی اس وقت نوافل ادا کیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح بیت اللہ الحرام میں بھی زوال کے وقت نماز کی ممانعت کا اعتبار نہیں کیا جاتا، اگرچہ زوال وہاں بھی ہوتا ہے، لیکن وہاں اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔

خلاصہ یہ کہ: عام دنوں میں زوال کے وقت نماز نہیں پڑھی جاتی۔

جمعہ کے دن زوال کے وقت نوافل جائز ہیں۔

حرمِ مکی میں بھی زوال کے وقت نماز کی اجازت ہے۔واللہ اعلم۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ