سوال

ایک شخص اپنے بیٹے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مالی امداد کا طلب گار ہے، جو الریاض کے شاہ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں خون کے شدید کینسر (Acute Leukemia MPAL) سے لڑ رہا ہے۔ اگرچہ علی کے چھوٹے بھائی کا بون میرو (Bone Marrow) علی سے 100 فیصد میچ کر گیا ہے، لیکن انشورنس کمپنی نے ٹرانسپلانٹ کے 10 سے 15 لاکھ سعودی ریال کے اخراجات ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عاصم صاحب اپنی تمام تر جمع پونجی اور فیملی وسائل بروئے کار لانے کے باوجود اس بھاری رقم کو پورا  کرنے سے قاصر ہیں۔

بچے کے والد صاحب برسرِ روزگار ہیں لیکن علاج کے اخراجات ان کی کل جمع پونجی اور استطاعت سے کہیں زیادہ ہیں، تو کیا یہ صورتحال “زکوٰۃ” (Zakat) کے مصرف میں آتی ہے؟ بالخصوص کیا انہیں اس بنیاد پر مستحقِ زکوٰۃ (بطورِ غارمین یا حاجت مند) قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک ایسی بنیادی ضرورت کے بوجھ تلے دبے ہیں جو ان کی مالی پہنچ سے باہر ہے؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

جن آٹھ مصارف میں زکاۃ خرچ کرنا واجب ہے انہیں اللہ رب العالمین نے یوں بیان فرمایا ہے:

“إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ”. [التوبة:60]

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور [زکاۃ جمع کرنے والے]عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

آیت میں پہلا اور دوسرا مصرف، فقراء اور مساکین ہے،  یعنی  انہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زکاۃ دینا جائز ہے۔ مرض کا علاج ایک بنیادی ضرورت ہے، جو شخص اس قدر تنگ دست ہو کہ اپنا علاج نہ کروا سکتا ہو اس کو زکوۃ کی مد میں رقم دینا جائز ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ